Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 111

By Maulana Wahiduddin Khan

کتابت کا کام برابر ملتار ہتا ہے ۔ مدرسہ میں ان کو سات سو روپیہ مہینہ مل رہا تھا۔ اب کتابت سے وہ دو ہزار روپیہ مہینہ حاصل کر لیتے ہیں جب ابھی وہ آغاز کے مرحلہ میں ہیں ، کچھ عرصہ بعد ان کی آمدنی انشاء اللہ اس کا دگنا ہو جائے گی ۔ میں نے کہا کہ الرسالہ کا مقصد صحیح سوچ پیدا کرنا ہے۔ اس وقت ہمارے ادارے اور معاشرہ کا یہ حال ہے کہ کہیں بھی آدمی کو صحیح سوچ کی تربیت نہیں ملتی۔ ہر آدمی خود رو پودے کی طرح اپنی زندگی کا سفر طے کرتا ہے۔ یہ اللہ کا فضل ہے کہ ہزاروں لوگوں کو الرسالہ کے ذریعہ روشنی ملی ہے۔ ۲۹ جولائی ۱۹۹۳ حدیث میں یہ پیشین گوئی ہے کہ دورِ آخر میں ایک دجالی فتنہ ظاہر ہوگا جو تمام فتنوں سے زیادہ بڑا ہوگا۔ میرا خیال ہے کہ دجالی فتنہ سے مراد شاید اسلام کی سیاسی تعبیر کا فتنہ ہے۔ جس کو اس کے علمبردار اسلام کی انقلابی تعبیر کا خوش نما نام دیتے ہیں۔ پیتل کے برتن پر سونے کی پالنش کر دی جائے تو اس پر فریب عمل کو دجال کہا جاتا ہے۔ اسلام کی انقلابی یا سیاسی تعبیر بھی اسی قسم کی ایک پر فریب تعبیر ہے۔ جو بظاہر اسلام ہے مگر باطن اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ اسی دجالی تعبیر کا یہ نتیجہ ہے کہ آج اسلام کی دھوم ہے مگر اسلامی سیرت کا کہیں وجود نہیں۔ لوگ مکمل اسلام قائم کرنے کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں مگر وہ جزو اسلام کو قائم کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہوئے۔ اسلام کے نام پر جان و مال کی بے حساب قربانیاں دی جارہی ہیں مگر نتیجہ کے اعتبار سے سارا معاملہ بالکل صفر ہے اس سیاسی اسلام کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس نے مسلم اور غیر مسلم کے درمیان داعی۔ مدعو کے رشتہ کو ختم کر دیا ہے۔ اس نے ساری دنیا میں دعوتی ماحول کو برباد کر کے ہر طرف عداوتی ماحول پیدا کر دیا ہے۔ مسٹر بنواری لال چورو ( راجستھان) کے رہنے والے ہیں۔ اور بنک میں ملازم ہیں۔ وہ آرایس ایس کے ممبر ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ہمارے بچپن میں جب ہمارے یہاں تعزیہ کا جلوس نکلتا تو میری

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page