آغازِ کلام
Urdu book, p. 112
By Maulana Wahiduddin Khan
نانی مجھ کو اس کے جلوس میں بھیجتی تھیں اور کہتی تھیں کہ چلتے ہوئے تعزیہ سے پاس ہو جانا۔ ان کا خیال تھا کہ اس سے برکت ہوتی ہے۔ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ۱۹۴۷ء سے پہلے ملک میں کیسا ماحول تھا، تقسیم کے واقعہ نے ان ساری روایات کو برباد کر دیا۔ ۲۱ جولائی ۱۹۹۳ ڈاکٹر مہیش شرما نے بتایا کہ ۱۹۲۵ء میں ناگپور میں ہندوؤں کا جلوس نکلنے والا تھا۔ اس جلوس کے بارے میں ہندوؤں اور مسلمانوں میں یہ معاہدہ ہو اک جلوس مسجد کے سامنے سے جب گزرے گا تو وہ اپنا باجا بند کر دے گا۔ اور خاموشی کے ساتھ گزر جائے گا۔ ڈاکٹر ہیڈ گوار کو معلوم ہوا تو انھوں نے کہا کہ یہ بالکل غلط معاہدہ ہے۔ چنانچہ انھوں نے خود اپنے گلے میں ایک ڈھول لٹکائی اور جلوس کے آگے اس کو بجاتے ہوئے چلے۔ مسجد کے پاس مسلمانوں نے روک ٹوک کیا۔ یہاں تک کہ ہند و مسلم فساد ہو گیا۔ اس کے بعد ڈاکٹر ہیڈ گوار نے آر ایس ایس کی تنظیم قائم کی۔ ان کا خیال تھا کہ ہندو اکثریت میں ہونے کے باوجود مسلمانوں سے ڈرتے ہیں۔ اس ڈر کو ہندوؤں کے دل سے نکالنا ہے۔ اور ہندوؤں کو دلیر بنانا ہے۔ یہ مقصد تھا آر ایس ایس کو قائم کرنے کا۔ یکم اگست ۱۹۹۳ بمبئی سے ایک اخبار مڈ ڈے (Mid-Day) نکلتا ہے۔ اس میں ایک مسلم خاتون کا خط چھپا ہے۔ اس کو سنڈے آبزرور ( یکم اگست ۱۹۹۳) نے نقل کیا ہے۔ خاتون کا نام ثریا با لو ہے ۔ وہ ایک تنظیم کی کنوینر ہیں۔ اس تنظیم کا نام ہے: Muslim Women's Equality Forum اس خط میں کہا گیا ہے کہ حکومت فوراً تین طلاق اور تعدد ازدواج کو خلاف قانون قرار دے ورنہ بہت بڑی تعداد میں مسلم عورتیں پارلی منٹ اور ریاستی اسمبلیوں کے سامنے خود سوزی کا مظاہرہ کریں گی۔ خط کا خلاصہ موٹو پر ہو اہے: If you do not permit us to live with honour, you cannot stop us from dying with dignity.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader