Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 113

By Maulana Wahiduddin Khan

یعنی اگر آپ ہم کو عزت کے ساتھ جینے کی اجازت نہیں دیتے تو آپ ہم کو عزت کے ساتھ مرنے سے نہیں روک سکتے۔ محمود سعید بلالی دہلی میں جامع مسجد کے علاقے میں رہتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ان کی والدہ اپنے بچوں کو ہمیشہ صبروبرداشت کی تلقین کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں : غصہ کھائے اپنے کو، نرمی کھائے دوسرے کو۔ یہ نہایت درست بات ہے۔ غصہ بظاہر آدمی دوسرے کے اوپر دکھاتا ہے مگر اس سے وہ خود اپنا نقصان کرتا ہے۔ غصہ کے وقت نرم پڑنا بظاہر اپنے خلاف ہے۔ مگر اس کا نتیجہ دوسرے کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ۳ اگست ۱۹۹۳ القرطبی کی تفسیر الجامع لاحکام القرآن پڑھتے ہوئے یہ واقعہ نظر سے گزرا کہ ایک آدمی کو دوسرے آدمی نے سب وشتم کیا۔ اس کو سن کر پہلے آدمی نے کہا : ان كنت صادقاً فغفر الله لى وان كنت كاذباً فغفر الله لك ( اگر تم سچے ہو تو خدا مجھے معاف کرے اور اگر تم جھوٹے ہو تو خدا تم کو معاف کرے) ۳۶۱/۱۵ یہ اللہ سے ڈرنے والے انسان کا معاملہ ہے۔ جو آدمی اللہ سے ڈرے، اس کے ساتھ جب کوئی ناخوشگوار بات پیش آتی ہے تو وہ حد سے باہر نہیں ہو جاتا۔ اس وقت بھی اس کی زبان سے احتیاط والا کلام نکلتا ہے جس کی ایک مثال مذکورہ واقعہ ہے۔ ۴ اگست ۱۹۹۳ ایک صاحب بعض حالات کی شکایت کر رہے تھے۔ ان کو میں نے ایک صحابی کا یہ قول سنایا : من لا يرضى بالقليل مما يأتى به السفيه يرضى بالكثير (جو آدمی نادان کے تھوڑے سے کو برداشت نہیں کرے گا، اس کو نادان کے زیادہ کو برداشت کرنا پڑے گا)۔ میں نے کہا کہ اس حدیث میں ایک اہم حقیقت بتائی گئی ہے۔ وہ یہ کہ اس دنیا میں آدمی کے لئے چوائس شراور بے شر کے درمیان نہیں ہے۔ بلکہ شر قلیل اور شر کثیر کے درمیان ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page