آغازِ کلام
Urdu book, p. 114
By Maulana Wahiduddin Khan
اگر آپ شر قلیل کو برداشت نہ کریں تو اس کے بعد جو چیز آپ کے حصہ میں آئے گی وہ بے شرکی حالت نہیں ہے بلکہ شر کثیر کی حالت ہے۔ اس لئے آدمی کو چاہئے کہ وہ شر قلیل کو گوارا کرلے تاکہ شر کثیر سے وہ اپنے آپ کو بچاسکے۔ ۵ اگست ۱۹۹۳ محمد فخر الاسلام ندوی نے ندوہ (لکھنؤ) سے فراغت کی ہے۔ اور اب وہ جامعہ ملیہ میں داخلہ کے لئے دہلی آئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ دسمبر ۱۹۹۲ میں وہ ندوہ میں تھے۔ ۶ دسمبر کو ایودھیا میں بابری مسجد توڑی گئی۔ اس کے بعد ۶ دسمبر کی رات کو لکھنؤ یونیورسٹی کے طلبہ اپنے ہوسٹل کی چھت پر چڑھ گئے اور ندوہ کی طرف پتھر پھینکنے لگے۔ یہ پتھر زیادہ تر ندوہ کے شبلی ہاسٹل پر آرہے تھے۔ اسی کے ساتھ وہ اشتعال انگیز نعرے لگارہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ پھر ندوہ کے طلبہ نے کیا کیا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ اپنے کمروں میں خاموش بیٹھے رہے۔ کیوں کہ ندوہ کے "بڑوں" نے ہم کو کسی بھی قسم کے جوابی عمل سے منع کر دیا تھا۔ ۶ اگست ۱۹۹۳ نجم الحسن صاحب ایک انگلش جرنلسٹ ہیں۔ وہ شیعہ خاندان میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے بتایا کہ میرے والد مجتہد تھے۔ وہ مجھ کو ہمیشہ کنفرنٹیشن سے منع کیا کرتے تھے۔ ایک روز ایک شیعہ بزرگ ہمارے گھر آئے۔ وہ دیر تک علی کی مظلومیت بیان کرتے رہے کہ خلافت علی کا حق تھا۔ مگر سازش کر کے ان کی خلافت چھین لی گئی۔ لمبی تقریر کر کے جب وہ چپ ہوئے تو میرے والد نے کہا کہ اب میں صرف ایک سوال کرتا ہوں۔ علی کے ساتھ جب اتنی بڑی تلفی ہوئی تو وہ گھر میں کیوں بیٹھے رہے۔ وہ تو بہت بہادر آدمی تھے۔ انھیں اپنے حق کے لئے لڑنا چاہئے تھا۔ پھر والد صاحب نے خود ہی جواب دیا کہ وہ اس لئے گھر میں بیٹھے رہے کہ فتنے کا اندیشہ تھا۔ گویا کہ علی کی اصل سنت یہ ہے کہ خواہ تم مظلوم ہو اور خواہ تمہاری حق تلفی کی گئی ہو، لیکن اگر اقدام سے فتنے کا اندیشہ ہو تو تم کو اپنی زبان بند کر کے بیٹھ رہنا چاہئے اور کوئی بھی جوابی کارروائی نہیں کرنا چاہئے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader