آغازِ کلام
Urdu book, p. 115
By Maulana Wahiduddin Khan
غلام اسحاق خان پاکستان کے آہنی صدر سمجھے جاتے تھے۔ آٹھویں ترمیم کے تحت اپنے دستوری حق کو استعمال کرتے ہوئے انھوں نے ۱۹۹۰ میں بے نظیر بھٹو کی منتخب حکومت کو بیک جنبش قلم توڑ دیا۔ دوبارہ نواز شریف کی منتخب حکومت کو اپنے صدارتی فرمان سے ۱۹۹۳ میں برخواست کر دیا وغیرہ۔ پاکستان کے سیاسی حالات بے حد خراب ہو گئے۔ نواز شریف اور بے نظیر بھٹو دونوں کی طرف سے بھیڑ کی سیاست (mob-politics) نے ہر طرف افرا تفری پھیلا دی۔ آخر کار ۱۸ جولائی ۱۹۹۳ کو فوجی افسران صدارتی محل میں داخل ہو گئے۔ مسلح فوج نے اسلام آباد میں مارچ کرنا شروع کر دیا۔ پاکستان کے آرمی چیف جنرل عبد الوحید نے غلام اسحاق خاں کو ہدایت دی کہ وہ استعفا دے کر حکومت سے الگ ہو جائیں۔ لاہور کے روز نامہ نوائے وقت (۳۰ جولائی ۱۹۹۳) میں سابق وزیر دفاع سید غوث علی شاہ کا بیان چھپا ہے۔ انھوں نے کہا کہ : " غلام اسحاق خاں نے صدارت کے عہدہ سے استعفا دینے میں لیت و لعل سے کام لیا۔ لیکن فوج کے دباؤ کے تحت انھیں مستعفی ہونا پڑا۔ غوث علی شاہ نے کہا کہ جب غلام اسحاق خاں استعفا کے کاغذ پر دستخط کر رہے تھے تو اس وقت میں وہاں موجود تھا۔ میں نے دیکھا کہ اس وقت ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے اور وہ سخت پریشان تھے۔ ۸ اگست ۱۹۹۳ مولانا عنایت اللہ سبحانی، بلی مار گنج میں رہتے ہیں اور وہاں جامعۃ الفلاح میں استاد ہیں۔ آج وہ ملاقات کے لئے آئے۔ گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کی شام کو جب یہ خبر ملی کہ ایودھیا کی بابری مسجد کو ہندوؤں نے ڈھا دیا تو بلی مار گنج میں کچھ نوجوانوں کو جوش آیا۔ رات کو وہ ایک مقامی مندر میں گھس گئے۔ اس وقت وہاں کوئی نہیں تھا۔ مندر کے اندر پوجا کے لئے سفید پتھر کی ایک گائے رکھی ہوئی تھی۔ رات کے اندھیرے میں وہ اس گائے کو اٹھا لائے۔ بعد کو پجاری کو معلوم ہوا تو وہ بلی مار گنج کے حکیم ایوب صاحب کے پاس آیا۔ اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader