Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 116

By Maulana Wahiduddin Khan

نے کہا کہ مسلمان ہمارے مندر کی گائے اٹھا لائے ہیں۔ میرے گھر کے بچے اور عورتیں سب رو رہے ہیں۔ حکیم صاحب نے پتہ کرایا تو خبر صحیح تھی۔ انھوں نے مسلمانوں کو سمجھایا اور گائے کو اپنے گھر منگوالیا۔ پھر کچھ مسلمانوں کے ساتھ اس کو لے جا کر مندر میں پہنچا دیا۔ مندر کا پجاری اس کے بعد حکیم صاحب کے پاؤں پر گر پڑا۔ اگر یہ پجاری ہندوؤں کے پاس جاکر شور مچاتا تو یقیناً بلرا یا گنج میں ہندو مسلم جھگڑا ہوجاتا۔ وہ لوگ ساری بستی میں آگ لگا دیتے۔ مگر پجاری کی شرافت اور حکیم صاحب کی سمجھ داری نے بستی کو فساد سے بچا لیا۔ مولانا عنایت اللہ سبحانی نے بتایا کہ اسی طرح اعظم گڑھ شہر میں بھی ہوا۔ ٦ دسمبر کی شام کو خبر ملنے کے بعد مولانا مجیب اللہ ندوی نے کچھ نوجوانوں کو اکٹھا کیا۔ ان کے سامنے جوشیلی تقریر کی۔ اس کے بعد لڑکوں کو لے کر دلال گھاٹ پہنچے۔ وہاں ان مسلمانوں نے ایک مندر کے کچھ حصہ کو توڑ دیا۔ اس پر مقامی ہندو بھڑک اٹھے۔ انھوں نے دلال گھاٹ کی مسجد میں توڑ پھوڑ کی۔ مگر اعظم گڑھ کا کلکٹر فوراً وہاں آگیا۔ اس نے آنسو گیس کے ذریعہ مجمع کو منتشرلیں کیا۔ اس کے بعد اس کے حکم کے تحت رات ہی کو مندر اور مسجد دونوں دوبارہ بنادئے گئے ۔ اس طرح شہر میں فساد ہونے سے رہ گیا۔ ۹ اگست ۱۹۹۳ حدیث میں ہے کہ عمر فاروق ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ میں آئے۔ آپ کھجور کی معمولی چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے جس سے آپ کے جسم پر نشانات پڑ گئے تھے۔ یہ دیکھ کر حضرت عمر روپڑے ۔ انھوں نے کہا کہ کسریٰ اور قیصر کے لئے ریشم و کم خواب ہیں اور خدا کے پیغمبر کے لئے یہ چٹائی۔ آپ نے فرمایا : افی شک انت یا عمر ، الا ترضى ان تكون لنا الآخرة ولہم الدنيا (رواه البخاري ومسلم وابوداؤد والترمذى وابن ماجہ والدارمی واحمد) اس کا مطلب یہ نہیں کہ خود راحت یا خود مشقت میں ذاتی طور پر یہ خصوصیت پائی جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ راحت سے دنیا والی نفسیات پیدا ہوتی ہے اور مشقت سے آخرت والی نفسیات۔ راحت آدمی کو بے حس کر کے اعلیٰ حقیقتوں کی طرف سے غافل بنا دیتی ہے۔ حتیٰ کہ بعض

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page