Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 117

By Maulana Wahiduddin Khan

اوقات وہ سرکشی تک پہنچ جاتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں مشقت سے اعلیٰ حقیقتوں کا احساس پرورش پاتا ہے۔ مثلاً ایک شخص آخرت کی فکر کی بنا پر اپنے دنیا کے معاملات کو درست نہ کر سکا۔ اس کے بیوی بچے پریشانیوں میں پڑے رہے۔ اس کو سوچ کر ان کی زبان سے نکلا: خدایا، جو کچھ میں اپنے بیوی بچوں کو دنیا میں نہ دے سکا، تو اس کو مزید اضافہ کے ساتھ آخرت میں دے دے۔ یہ دعا اگر قبول ہو جائے تو وہ تمام قیمتی چیزوں سے زیادہ قیمتی ہے۔ مگر ایسی در مشقتوں ہی میں نکلتی ہے ، وہ راحتوں میں کبھی نہیں نکلتی۔ ۱۰ اگست ۱۹۹۳ ایک تعلیم یافتہ ہندو مسز رشتھا جین 'اسلام میں عورت کا مقام' پر ریسرچ کر رہی ہیں۔ وہ انٹرویو کے لئے آئیں ۔ میں نے کہا کہ اسلام میں عورت اور مرد کا ورک پلیس (work place) بنیادی طور پر الگ الگ رکھا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ تو برابری کے اصول کے مطابق نہیں ۔ میں نے کہا کہ وہ فطرت کے اصول کے مطابق ہے۔ کیوں کہ بیالوجی کی تحقیقات بتاتی ہیں کہ عورت اور مرد میں پیدائشی فرق ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مکمل آزادی کے باوجود بہت سے شعبے عورتوں سے بالکل خالی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ توکنڈیشنگ کی وجہ سے ہے، میں نے کہا کہ کنڈیشنگ کا نظریہ تحقیق سے ثابت نہیں ہوتا۔ تحقیقات بتاتی ہیں کہ کنڈیشنگ وراثتی طور پر منتقل نہیں ہوتی۔ اگر فی الواقع کوئی مرد یا عورت کنڈیشنڈ ہو جائیں تب بھی اس کا اثر انھیں کی ذات پر ختم ہو جائے گا۔ وہ وراثت کے ذریعہ ان کے بچوں کو منتقل نہیں ہو سکتا۔ ۱۱ اگست ۱۹۹۳ علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ایک موقع پر کسی کو نصیحت کرتے ہوئے کہا: اعرف الرجال بالحق ولا تعرف الحق بالرجال (آدمیوں کو حق کے ذریعہ پہچانو، حق کو آدمیوں کے ذریعہ نہ پہچانو)۔ حضرت علی کے زمانہ میں تو صرف بعض افراد اس ذہن کے ہوں گے۔ مگر موجودہ زمانہ میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page