Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 118

By Maulana Wahiduddin Khan

پوری کی پوری امت اسی مزاج کی ہوگئی ہے۔ آج عوام اور خواص دونوں کا یہ حال ہے کہ وہ قرآن و سنت کے ذریعہ حق کو جاننے کی کوشش نہیں کرتے۔ وہ صرف اس حق سے واقف ہیں جو ان کے "بڑوں" کے ذریعہ ان کو ملا ہو۔ حتی کہ اگر وہ کبھی قرآن و سنت کا نام لیتے ہیں تو اس لئے کہ اس سے اپنے بڑوں کی رائے کو درست ثابت کرسکیں۔ ۱۲ اگست ۱۹۹۳ء ۱۹۵۲ء میں مصر میں فوجی بغاوت ہوئی۔ شاہ فاروق کو تخت سے معزول کر کے ملک سے نکال دیا گیا۔ فوجی افسران حکومت پر قابض ہوگئے۔ اس وقت میں اعظم گڑھ میں تھا۔ عبدالرشید نعمانی ندوی سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے راز دارانہ انداز میں بتلایا کہ مولانا ابوالحسن علی ندوی قاہرہ جارہے ہیں۔ یہ جو مصر میں انقلاب آیا ہے اس کو لانے والے الاخوان المسلمون کے لوگ ہیں۔ اب مصر میں اسلامی شریعت کی حکومت ہوگی۔ مولانا موصوف قاہرہ اس لئے جارہے ہیں کہ اس تاریخی موقع پر اخوانی قائدین کو مشورہ دے سکیں۔ مولانا عنایت اللہ سبحانی کا بیان ہے کہ ان کے استاد ڈکٹر احمد حسن فرحات شامی جو مصری عالم شیخ البوزہرہ کے استاد ہیں۔ انہوں نے بتلایا کہ ۱۹۶۹ء میں جب لیبیا میں فوجی انقلاب ہوا۔ شاہ ادریس کی جگہ کرنل معمر قذافی ملک کے حکمران بن گئے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ : القرآن شريعة المجتمع۔ تو اس موقع پر شیخ البوزہرہ (۱۹۷۳- ۱۸۹۸ء) نے متذانی کے پاس باقاعدہ وفد بھیجا تھا۔ اس وفد کے ذریعہ انہوں نے صدر متذانی کو یہ پیغام دیا تھا کہ تم لیبیا میں اسلامی شریعت نافذ کرنا چاہتے ہو تو فلاں باتوں کا خیال رکھنا۔ مثلا یہ کہ اسلامی شریعت میں حد ز نارجم نہیں ہے۔ بلکہ سو کوڑے مارنا ہے۔ تم نفاذ اسلام کے جوش میں کوئی ایسی کارروائی مت کرنا کہ دنیا کو اسلام پر ہنسنے کا موقع ملے۔ ۱۳ اگست ۱۹۹۳ء ایک صاحب نے مسجد میں تقریر کی۔ ان کی تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ چیزوں سے نہیں، ہوتا خدا سے ہوتا ہے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں موسیٰ اور فرعون کی مثال دی۔ انہوں نے کہا کہ فرعون کے پاس سب چیزیں تھیں۔ اس کے مقابلہ میں موسیٰ بے چیز تھے۔ مگر خدا نے فرعون کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page