Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 119

By Maulana Wahiduddin Khan

چیزوں میں ہلاک کیا اور موسیٰ کو بے چیز میں کامیابی دی۔ یہ دلیل نہیں ہے بلکہ مضمون بندی ہے۔ کیوں کہ موسیٰ کے پاس فرعون کی ہر چیز سے زیادہ طاقت ور چیز تھی، اور وہ نبوت تھی۔ نبی ہونے کی بنا پر ان کو ایسا عصا حاصل تھا جو سمندر کو پہاڑے اور پہاڑ کو توڑ ڈالے۔ یہی وجہ ہے کہ نبوت سے پہلے موسیٰ کو فرعون کے خوف سے مصر چھوڑ کر مدین جانا پڑا۔ مگر نبوت اور عصا ملنے کے بعد وہ فرعون کے اوپر غالب آگئے۔ ایسی ہی مضمون بندی ایک اور گروہ کرتا ہے جس کا کہنا ہے کہ سب کچھ سیاسی نظام سے ہوتا ہے۔ اگر سیاسی نظام پر قبضہ ہو جائے تو گویا ہر چیز پر قبضہ ہو گیا۔ مگر یہ ایک بے معنی بات ہے۔ ضیاء الحق کی صدارت اور نواز شریف کی وزارت کے ذریعہ پاکستان میں پندرہ سال تک اسلام پسندوں کا سیاست پر قبضہ رہا۔ مگر وہ ایک فیصد بھی اسلام کے لئے مفید نہ بن سکا۔ ۴ اگست ۱۹۹۳ ریاض کے عربی ہفت روزہ الدعوۃ (۱۲ صفر ۱۴۱۲ھ ، ۲۲ اگست ۱۹۹۱ء) میں ایک رپورٹ چھپی تھی۔ اس کا عنوان تھا: کل الامم تخطط لمستقبلها ما عد المسلمين (تمام قومیں اپنے مستقبل کا منصوبہ بنا رہی ہیں سوا مسلمانوں کے) اس کو پڑھ کر میں نے کہا کہ یہ سرخی درست نہیں۔ اس لئے کہ دوسری قوموں کی طرح مسلمان بھی پچھلے کم از کم ڈیڑھ سو سال سے اپنے قومی عمل کے نقشے بنا رہے ہیں، اپنے نقشے کے مطابق عمل کر رہے ہیں اور قربانیاں دے رہے ہیں۔ پھر ایسا کہنا کیوں کر درست ہو سکتا ہے کہ مسلمان اپنے مستقبل کے لئے منصوبہ نہیں بنا رہے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ مسلمانوں کے منصوبہ اور ان کی قربانیوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ اس لئے مضمون نگار یہ سمجھ رہے ہیں کہ منصوبہ بھی نہیں بنا۔ حالاں کہ مسلمانوں کے لئے اصل مسئلہ فقدان تخطیط کا نہیں بلکہ فقدان تخطیط کا ہے۔ مضمون نگار کو کل الامم تخطط لمستقبلها ما عدا المسلمين کے بجائے یہ کہنا چاہئے: کل الامم تستمتع بئائج

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page