Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 120

By Maulana Wahiduddin Khan

مولانامحمد عنایت اللہ سبحانی (استاد جامعہ الفلاح ، اعظم گڑھ) نے ایک کتاب لکھی ہے۔ اس کا نام "حقیقت رجم" ہے۔ یہ مجموعی طور پر ۳۶۰ صفحات پر مشتمل ہے۔ مصنف نے اس کا مسودہ مجھے پڑھنے کے لئے دیا۔ عام کتابوں کی طرح یہ کتاب ادبی اسلوب میں نہیں ہے بلکہ از اول تا آخر تحقیقی انداز میں لکھی گئی ہے۔ اس کتاب کو میں نے دیکھا۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حد زنا اسلام میں رجم نہیں ہے بلکہ سوکوڑے مارنا ہے ، جیسا کہ قرآن میں آیا ہے۔ رجم دراصل اس زانی کے لئے ہے جو عادی مجرم ہو ، جو اپنی مفسدانہ کارروائیوں سے پورے سماج کے لئے خطرہ بن جائے۔ حتی کہ کوڑا مارنے کی مقررہ سزا اس کی اصلاح کے لئے کافی نہ ہو اور حاکم ضرورت شدید ہ کی بنا پر اس کے لئے سخت ترنزا کا فیصلہ کرے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک اہم اور تاریخی کتاب ہے۔ اگر ایک بار یہ ثابت ہو جائے کہ رجم حد زنا نہیں ہے بلکہ مخصوص حالات میں ایک تعزیری حکم ہے تو اس کے بعد بہت سے مسائل کے حل کا راستہ کھل جائے گا۔ کیوں کہ یہی غلطی بعد کے زمانہ میں متعدد امور میں کی گئی ہے۔ مثلاً مرتد کی سزا قتل، شاتم کی سزا قتل، یا ایک مجلس کی تین طلاق کو واقع کرکے تفریق کرا دینا، یہ سب حاکم وقت کی طرف سے بطور وقتی تعزیر تھے۔ مگر ان کو مستقل شرعی مسئلہ سمجھ لیا گیا۔ یہ کوئی سادہ غلطی نہیں ہے۔ اس غلطی نے موجودہ زمانہ میں اسلامی تحریک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلم داعیوں میں عام طور پر تشدد کا مزاج پیدا ہوگیا ہے جس کا نمونہ ہر جگہ دیکھا جا سکتا ہے۔ اس غلطی نے اسلام کی ایک متشددانہ تصویر بنادی ہے۔ اسی کی بنا پر ایسا ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلم حکمراں غیر ضروری طور پر نفاذ شریعت کی کوششوں کے مخالف بن گئے ہیں۔ کیوں کہ وہ اس کو دور وحشت کی طرف لوٹنے کے ہم معنی سمجھتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اس غلط تصویر نے اسلام کو ایک انتہا پسند مذہب کا روپ دیکر لوگوں کو خلاف واقعہ طور پر اسلام کی طرف سے متوحش کر دیا ہے۔ اسلام کے قانون کی یہ غلط تشریح

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page