Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

پڑھنے والے لوگ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں، فرق صرف یہ ہے کہ ایک طبقہ بے نماز قسی القلب ہے، اور دوسرا طبقہ با نماز قسی القلب۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں جو بھی اصلاحی تحریک اٹھی اس نے مسلمانوں کو مسلمان فرض کرکے اسلامی عمل کی طرف بلانا شروع کر دیا۔ حالاں کہ ضرورت تھی کہ اسلامی عمل سے پہلے لوگوں کے اندر اسلامی ذہن پیدا کیا جائے۔ ۵ جنوری ۱۹۹۳ خدا کے وجود کے بارہ میں سب سے زیادہ شبہہ اس لئے کیا جاتا ہے کہ دنیا میں برائی (evil) ہے ۔ ان کے نزدیک خدا اگر کامل ہے تو وہ دنیا میں برائیوں کو کیوں برداشت کرتا ہے۔ ایک مفکر نے لکھا ہے کہ مجھے یہ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ دنیا میں اس قدر برائی اور مصیبت کا وجود مختارِ کل اور مشفق خدا کے تصور کی نفی کرتا ہے۔ مگر یہ شبہ درست نہیں۔ برائی کے مسئلہ کا تعلق وجودِ خدا سے نہیں ہے بلکہ منصوبۂ خدا سے ہے۔ ۱۶ جنوری ۱۹۹۳ ایک عیسائی خاتون نے اسلام قبول کر لیا۔ ان کا موجودہ نام زرینہ لزارس (Zarina Lazarus) ہے۔ ان کا پتہ یہ ہے : A-30, Gulmohar Park, New Delhi-110049, Tel. 668568 وہ موجودہ مسلمانوں کی اخلاقی حالت سے سخت نالاں ہیں۔ مگر وہ اسلام سے اتنا ہی زیادہ متاثر ہیں۔ گفت گو کے دوران انہوں نے کہا کہ آپ مسلمانوں کا انکار کر سکتے ہیں، مگر آپ اسلام کا انکار نہیں کر سکتے : You can deny Muslims, but you cannot deny Islam. زندگی میں سب سے زیادہ مشکل کام نیا فیصلہ لینا ہے۔ فرد کے لئے بھی اور گروہ کے لئے بھی۔ دنیا میں مختلف اسباب سے حالات بدلتے رہتے ہیں۔ مگر بیشتر لوگوں کا یہ حال ہوتا ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page