آغازِ کلام
Urdu book, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
کر ان کا ذہن پچھلے حالات میں گھرا رہتا ہے۔ وہ ایسا نہیں کر پاتے کرنے حالات کو گہرائی کے ساتھ سمجھیں اور اس کے مطابق کوئی نیا فیصلہ لے سکیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلم لیڈروں میں یہ کمزوری بہت زیادہ عام نظر آتی ہے۔ ۱۸ جنوری ۱۹۹۳ بھارتیہ جنتا پارٹی کا یہ کہنا ہے کہ ہم لوگ انڈیا میں رام راجیر لانا چاہتے ہیں تو یہ کوئی غلط کام نہیں۔ اس لئے کہ قوم کے باپ مہاتما گاندھی کا بھی یہی کہنا تھا کہ آزادی کے بعد وہ دیس میں رام راجیہ لانا چاہتے ہیں۔ ٹائمس آف انڈیا (۱۸ جنوری ۱۹۹۳) نے اس سلسلہ میں گاندھی کا یہ قول نقل کیا ہے کہ رام راجیہ سے میری مراد ہندو راج نہیں ہے۔ رام راجیہ سے میری مراد خدائی راج ہے۔ میرے نزدیک رام اور رحیم دونوں ایک ہیں: By Ram Raj, I do not mean Hindu Raj. I mean by Ram Raj-Divine Raj-the kingdom of God. For me Ram and Rahim are one and same deity. ۱۹ جنوری ۱۹۹۳ جولیت رینالڈس (Juliet Reynolds) ایک خاتون برٹش جرنلسٹ ہیں، جو ایک عرصہ سے انڈیا میں رہتی ہیں۔ ان کے مضامین روزنامہ پائینیر میں چھپتے ہیں۔ پائینیر کے شمارہ ۹ جنوری ۱۹۹۳ میں ان کا ایک مضمون چھپا ہے ، اس کا عنوان ہے ۔ انڈیا کے لوگ تاریخ کے شعور سے محروم ہیں: Indians are devoid of a sense of history. وہ لکھتی ہیں کہ اس ملک کے ذہین طبقہ کی زبان سے جو تاثرات میں نے سنے ہیں، ان میں سے ایک بات جو بار بار سننے میں آئی ہے وہ یہ کہ ہندوستان کے لوگ غیر تاریخی قسم کے انسانوں کے دائرہ میں سوچنے کے عادی ہو گئے ہیں۔ اور اس لئے وہ تاریخ کے شعور سے محروم ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ چیز انڈیا کے دوسرے سماجوں سے زیادہ اس خطرہ میں مبتلا کر دیتی ہے کہ وہ ماضی کی غلطیوں کو دہرائیں۔ ان کے اصل انگریزی الفاظ یہاں نقل کیے جاتے ہیں:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader