Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 121

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانہ میں اسلامی دعوت کا راستہ روکنے کا سبب بن گئی ہے۔ مئُو کے جناب حافظ عبد الجبار صاحب ملاقات کے لئے آئے۔ انھوں نے بتایا کہ مئُو میں دریائے ٹونس کے کنارے ایک چھوٹی سی مسجد تھی۔ اس کے ساتھ بڑی سی زمین تھی۔ ایک ہندو عورت نے دعویٰ کیا کہ یہ مسجد میری زمین پر بنائی گئی ہے۔ مسلمان مسجد کو اس کے حوالے کرنے کے لئے تیار نہیں ہوئے۔ عورت اس پر راضی تھی کہ مسجد اور اس کے ساتھ بقدر ضرورت زمین مسلمان لے لیں اور بقیہ زمین اس کے لئے چھوڑ دیں۔ مگر مئُو کے مسلمانوں نے اس کو نہیں مانا۔ یہاں تک کہ مقدمہ شروع ہو گیا۔ مقامی عدالت میں مسلمان اپنا مقدمہ ہار گئے۔ اس کے بعد وہ الہٰ آباد ہائی کورٹ میں گئے وہاں بھی ان کے خلاف فیصلہ ہوا۔ اب عدالتی حکم کے تحت وہاں پولیس نورس چاروں طرف لگا دی گئی۔ تمام راستے بند کر دیئے گئے تا کہ مسلمان وہاں نہ پہنچ سکیں ۔ اس طرح مسجد ڈھا کر زمین کے برابر کر دی گئی ۔ اب وہ زمین پوری کی پوری اس عورت کے خاندان کے قبضہ میں ہے۔ یہ واقعہ ۲۵ سال پہلے کا ہے۔ عبد الجبار صاحب نے اسی طرح مئُو کے مسلمانوں کے کئی اور واقعات بتائے۔ جب کہ ایک خاندان آپس میں لڑگیا۔ صلح کی ساری کوشش ناکام ہو گئی اور جھگڑا صرف اس وقت ختم ہوا جب کہ عدالت نے کسی ایک کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ یہ سب قصے سننے کے بعد میں نے کہا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ الصلح خير۔ مگر آجکل کے مسلمانوں نے اس کو چھوڑ کر اپنا اصول یہ بنا لیا ہے کہ الحرب خير۔ ۱۷ اگست ۱۹۹۳ء کشمیری لیڈر پروفیسر سیف الدین سوز ایک اور کشمیری کے ساتھ ملاقات کے لئے آئے۔ گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ تو مزید حل ہو رہا تھا۔ مگر لیاقت علی خاں (سابق وزیر اعظم پاکستان) کی نادانی سے وہ کھویا گیا۔ پھر میں نے اس کی تفصیل بتائی جو پاکستان کے مسلم لیگی لیڈر چودھری محمد علی نے اپنی کتاب (Emergence of Pakistan) میں درج کی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page