Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 122

By Maulana Wahiduddin Khan

اس معاملے کا مکمل حوالہ میں نے الرسالہ اگست ۱۹۸۸ ، صفحہ ۷۲ میں نقل کیا ہے۔ پروفیسر سوز نے کہا کہ اس معاملے کی مزید تفصیل سردار محمد ابراہیم خاں نے لکھی ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ لیاقت علی خاں تو اس پر تیار تھے کہ حیدر آباد کو انڈیا کے حوالے کرکے کشمیر کو حاصل کرلیں ۔ مگر غلام محمد اس پر راضی نہیں ہوئے جو لیاقت علی خاں کی کیبنٹ میں وزیر خزانہ تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر تو ہمارا ہے ہی جونا گڑھ اور حیدر آباد کو ہم انڈیا کے لئے کینسر بنا کر رکھیں گے تاکہ اس کا دماغ درست رہے۔ یہ موجودہ مسلمانوں کا خاص مزاج ہے۔ اس طرح کے معاملات میں وہ ہمیشہ کوئی نہ کوئی اسکیپ گوٹ (scapegoat) حاصل کرلیتے ہیں جس کے ذریعہ وہ اپنے بڑوں کی غلطیوں کا الزام کسی اور کے سر ڈال سکیں۔ ۱۸ اگست ۱۹۹۳ راجندر سنگھ عرف رجبو بھیا، آرایس ایس کے منظر سمجھے جاتے ہیں۔ ۱۵ اگست کو دین دیال ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں ان کی ایک تقریر سنی۔ انہوں نے بتایا کہ ۹۲-۱۹۹۱ میں جب یوپی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت تھی، انھوں نے یوپی کے مسلم مدرسوں میں پڑھائی جانے والی کتابوں کا اردو سے ہندی میں ترجمہ کرایا۔ ان کا جائزہ لینے کے بعد معلوم ہوا کہ ابتدائی مدرسہ میں پانچ سال کے دوران ایک مسلمان بچہ جو تعلیم حاصل کرتا ہے اس میں وہ ۱۰۵ شخصیتوں کے حالات پڑھتا ہے۔ یہ سب شخصیتیں مسلمان اور زیادہ تر باہر کی ہوتی ہیں۔ جیسے کہ ابو بکر و عمر ونو وغیرہ۔ ۱۰۵ شخصیتوں میں چند ملکی شخصیتیں ہوتی ہیں ان میں دو تو گاندھی اور جواہر لعل ہیں اور بقیہ ابوالکلام آزاد اور ذاکر حسین وغیرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گاندھی اور جواہر لعل تو ایسے لوگ ہیں جو بہر حال رہیں گے۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ ان کے علاوہ کوئی نہیں۔ مثلاً سوامی ویویکانند، اردو بندو گھوش، شیواجی، را بندر نا تھ ٹیگور اور اسی طرح دوسرے بہت سے لوگ ہیں جن کے بارہ میں مسلم بچہ کچھ نہیں جانتا۔ ایسی حالت میں دیش میں یک جہتی کیسے آسکتی ہے۔ یک جہتی کا تعلق مزاج سے ہے نہ کسی تعلیمی کورس سے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page