آغازِ کلام
Urdu book, p. 123
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان کی مختلف تعریفیں کی گئی ہیں۔ کسی نے کہا کہ انسان ایک ناطق حیوان ہے۔ کسی نے کہا کہ انسان ایک معاشی حیوان ہے۔ کسی نے کہا کہ انسان ایک اوزار ساز حیوان ہے کسی نے کہا کہ انسان ایک توجیہہ پسند حیوان ہے۔ میرا خیال ہے کہ انسان کی زیادہ جامع تعریف، جس میں اس کی تمام دوسری صفتیں شامل ہو جائیں، وہ شاید یہ ہوگی کہ انسان ایک جویائے مسرت حیوان ہے: Man is a pleasure-seeking animal. میرا تجربہ ہے کہ انسان اپنے پورے وجود کے ساتھ ہمیشہ مسرت کی تلاش میں رہتا ہے۔ ذہنی مسرت، جسمانی مسرت، اپنی چاہتوں کو پانے کی مسرت۔ مگر اس دنیا میں کوئی بھی انسان اب تک اپنی مطلوب مسرت کو پانے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ ایک طرف خالق فطرت نے انسان کو ایک مسرت طلب حیوان بنایا۔ دوسری طرف اس نے انسان کے اندر اور انسان کے باہر ایسی ناقابل عبور رکاوٹیں رکھ دیں کہ کوئی شخص اپنی پسندیدہ منزل تک نہ پہنچ سکے۔ اس تضاد کا واحد جواب جنت کا عقیدہ ہے۔ جنت حال کی بظاہر بے معنی زندگی کو مستقبل کی با معنی زندگی میں تبدیل کرتا ہے۔ موجودہ المناک صورت حال میں صرف جنت کا عقیدہ ہے جو آدمی کی زندگی کو معنویت عطا کرتا ہے۔ اگر جنت کے عقیدہ کو حذف کر دیا جائے تو انسان کی زندگی ایک ناقابل فہم معمہ بن کر رہ جائے۔ ۲۰ اگست ۱۹۹۳ ایک صاحب نے کہا کہ میں آپ کی تحریریں برابر پڑھتا ہوں۔ کئی تقریریں بھی سنی ہیں۔ مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ آپ غیر مسلموں کے مقابلہ میں یکطرفہ طور پر پس نرم ہوتے جا رہے ہیں۔ آخر آپ کی اسلامی غیرت کہاں گئی۔ میں نے کہا کہ یہ اسلامی غیرت کا معاملہ نہیں، یہ اسلامی حکمت کا معاملہ ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ الاسلام يعلو ولا يعلى عليه (اسلام غالب ہوتا ہے، وہ کبھی مغلوب نہیں ہوتا۔ اس حدیث میں اسلام کی حربی برتری کا ذکر نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ جنگ کے میدان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader