آغازِ کلام
Urdu book, p. 124
By Maulana Wahiduddin Khan
میں تو بار بار وتلک الایام ندادلھا بین الناس کا معاملہ ہوتا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث میں اسلام کی فکری برتری کا ذکر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فکری اور نظریاتی مقابلہ میں اسلام ہمیشہ سر بلند رہے گا۔ اسلام کو کبھی نظریاتی مغلوبیت کا تجربہ پیش نہیں آئے گا۔ موجودہ زمانہ میں داعی اور مدعو کے درمیان کھینچاڈ کا ماحول اسلام کی اس صفت کے ظہور میں رکاوٹ بن گیا ہے۔ اگر کسی طرح اس منفی تضاد کو ختم کر دیا جائے تو اسلام اپنی فکری برتری کی بنا پر لوگوں کو مسخر کرنا شروع کر دے گا۔ میں نے کہا کہ دو نا مساوی فریقوں میں صلح ہمیشہ طاقت ور فریق کے لئے مفید ہوتی ہے۔ اس کو یوں سمجھے کہ چھری اور خربوزہ میں بحث ہوئی کہ ہم دونوں ایک ساتھ رہیں۔ خربوزہ نے کہا کہ مگر شرط یہ ہے کہ تم کو اپنا نام چھری کے بجائے گھاس رکھنا ہوگا۔ اور مجھ کو شیر کہنا پڑے گا۔ میں ہمیشہ اوپر رہوں گا اور تم کو ہمیشہ نیچے رہنا پڑے گا۔ چھری نے کہا کہ تمہاری سب شرطیں منظور۔ اب بتائیے کہ یہ معاہدہ صلح کس کے حق میں جائے گا۔ ۲۱ اگست ۱۹۹۳ صلاح الدین صاحب (رائچور) ملاقات کے لئے آئے۔ انھوں نے بتایا کہ رائچور میں ایک صاحب نے کہا کہ تمہارے سے مولانا وحید الدین خاں مغرب سے متاثر معلوم ہوتے ہیں ۔ صلاح الدین صاحب نے کہا: ہاں وہ متاثر تو ہیں ، مگر وہ اللہ سے متاثر ہیں نہ کہ مغرب سے۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ وہ مغرب کی ہر بات سے اللہ اور آخرت کی بات نکالتے ہیں۔ ۲۲ اگست ۱۹۹۳ دور جدید میں اسلام کے احیاء کی باتیں بہت زیادہ کی گئی ہیں۔ بے شمار قربانیاں دی گئی ہیں۔ مگر اب تک اسلام کا احیار نہ ہو سکا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو آدمی اٹھتا ہے وہ ابتدائی بنیاد کا کام کئے بغیر اوپری طور پر اسلام کا قلعہ کھڑا کر دینا چاہتا ہے۔ الرسالہ مشن دراصل رتی اور آرڈر کی اساس بنانے کی بجائے دوسری جگہ کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ تعبیر اساس کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader