Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 125

By Maulana Wahiduddin Khan

"الرسالہ والے مولانا سے ضرور ملاقات کرنا۔ انھوں نے نصیحت کے لئے کہا۔ میں نے ان کی ڈائری میں یہ الفاظ لکھ دئے: اس دنیا میں ہر آدمی اپنی محنت کے بقدر پاتا ہے۔ اس دنیا کا اصول یہ ہے کہ ــــ جتنی محنت اتنی کامیابی۔ ۲۴ اگست ۱۹۹۳ آج دہلی کے ٹاکٹورہ اسٹیڈیم میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے ایک جلسہ تھا۔ وسیع ہال پوری طرح بھرا ہوا تھا۔ بہت بڑی تعداد میں دہلی اور دہلی کے باہر کے بی جے پی سے تعلق رکھنے والے ہندو جمع تھے۔ پنچ پران کے اکثر بڑے بڑے لیڈر موجود تھے۔ مجھے بھی تقریر کے لئے بلایا گیا تھا۔ میں نے کہا کہ زندگی کے دو طریقے ہیں۔ الگاؤ واد اور ملاپ واد۔ اسلام کا طریقہ ملاپ واد کا طریقہ ہے۔ چنانچہ قرآن میں کہا گیا ہے: الصلح خیر (النساء، ۱۲۸)، اور فرمایا کہ واللہ يدعوا الى دار السلام (یونس ۲۵) میں نے کہا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ قرآن مار کاٹ کی کتاب ہے۔ وہ جاہل ہیں۔ وہ اپنے اگیان کو قرآن کے آئینہ میں دیکھ رہے ہیں۔ مسٹر زاد چودھری (مقیم لندن) کا انٹرویو ٹائمز آف انڈیا ۸ اگست ۱۹۹۳ میں چھپا ہے۔ وہ بجا طور پر کہتے ہیں قرآن کے ٹیکسٹ میں مجھ کو کوئی بے ٹھیک بات نہیں ملی۔ جو بے ٹھیک باتیں ہیں وہ سب کسٹری میں ہیں۔ سلمان رشدی نے اپنی کتاب (The Satanic Verses) کسٹری کی بنیاد پر لکھی ہے نہ کہ قرآن کے ٹیکسٹ کی بنیاد پر۔ میں نے کہا کہ کسٹری ہر آدمی کا اپنا انٹرپریٹیشن ہوتا ہے۔ اور انٹرپریٹیشن میں ہمیشہ اختلاف ہوتا ہے۔ چنانچہ گیتا کے متعلق کچھ ہندو شارحین کا کہنا ہے کہ وہ جنگ کی کتاب ہے۔ مگر اسی گیتا کو مہاتما گاندھی نے امن کی کتاب بتایا ہے۔ اکثر غلط فہمیاں صرف بے شعوری کا نتیجہ ہوتی ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page