Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 126

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا کیس کیا ہے، اس کے بارہ میں جناب محمد حنیف صاحب (ناگپور) سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اس زمانہ کے مسلمانوں کا کیس (degeneration) کا کیس ہے۔ اب اس کا حل صرف ایک ہے۔ مسلمانوں کو دوبارہ regenerate کیا جائے ۔ موجودہ زمانہ میں بے شمار کوششوں اور قربانیوں کے باوجود مسلمانوں کو دوبارہ اٹھانا ممکن نہ ہوسکا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اصل کام تو regeneration کا تھا، مگر رھنماؤں نے اس کو excitement کا معاملہ سمجھ لیا۔ ہر ایک مختلف انداز سے جوش دلانے کا کام کرتا رہا۔ کسی نے تاریخی عظمت بیان کی، کسی نے تاریخی فخر کے جذبہ کو ابھارا، کسی نے سیاسی نعرہ لگایا۔ کسی نے فضائل کی داستانیں سنائیں۔ غرض ہرایک بس جذبات کو ابھارتا رہا۔ جب کہ اصل کام شعور کو بیدار کرنا تھا۔ دورِ اول کے مسلمانوں کے لئے اسلام ایک ڈسکوری تھا۔ آج ضرورت ہے کہ مسلمانوں کے لئے اسلام کو دوبارہ rediscovery بنایا جائے۔ اس کے بغیر احیاِ ملت کا کوئی امکان نہیں۔ ۲۶ اگست ۱۹۹۳ ایک صاحب نے کہا کہ آپ ہمیشہ صلح کی بات کرتے ہیں، ایسا کیوں۔ میں نے کہا کہ صلح کی بات وہ نہیں کرتا جو کمزور ہو۔ میں اسلام کو سب سے بڑی طاقت سمجھتا ہوں، اس لئے میں ہمیشہ صلح کے لئے تیار رہتا ہوں۔ میں نے کہا کہ طاقت ور آدمی ہمیشہ صلح کا خیر مقدم کرتا ہے کیونکہ دو مساوی فریقوں کے درمیان صلح ہمیشہ طاقت ور فریق کے لئے مفید ہوتی ہے۔ ۲۷ اگست ۱۹۹۳ ماہنامہ حیات نو (جولائی ۱۹۹۳) کے صفحہ اول پر کسب کمال کے عنوان سے یہ الفاظ چھپے ہوئے تھے : ہر حلقہ میں استعداد و قابلیت ہی کی آج بھی پوچھ ہے۔ جدید تعلیم کے حلقہ میں بھی، دینی تعلیم کے دائرہ میں۔ غیر قابل کی کہیں پوچھ نہیں۔ اور قابل آدمی ہر جگہ اپنا مقام پالیتا ہے۔ پس کسب کمال کن که عزیزِ جہاں شوی۔ کمال حاصل کرو تا کہ دنیا والوں کے پیارے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page