Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 127

By Maulana Wahiduddin Khan

بن جاؤ (مولانا جلیل احسن ندوی) میں نے اس کو پڑھا تو میں نے کہا کہ یہ ایک صحیح بات ہے مگر اس کو کمزور الفاظ میں بیان کیا گیا ہے ۔ صحیح بات کو بھی طاقت ور الفاظ میں بیان کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب تک الفاظ میں طاقت نہ ہو ، معنی میں طاقت نہیں آتی۔ ۲۸ اگست ۱۹۹۳ ایک صاحب سے گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ مجھے بار بار سفر کرنا پڑتا ہے۔ مگر سفر ہمیشہ میرے لئے ایک وحشت ناک تجربہ ہوتا ہے۔ میں مجبوری کے تحت سفر کرتا ہوں نہ کہ خوشی کے تحت ۔ میرا خیال ہے کہ انسان ہمیشہ اپنے معمولات کا عادی بن جاتا ہے اور سفر خواہ بظاہر کتنا آرام دہ ہو، بہر حال آدمی کے معمولات سفر میں ٹوٹ جاتے ہیں۔ معمولات کے ٹوٹنے کی وجہ سے سفر راحت کے بجائے زحمت بن جاتا ہے۔ ۲۹ اگست ۱۹۹۳ کولمبو (سری لنکا) میں رابطہ عالم اسلامی اور سعودی عرب کی وزارت اوقاف کے زیر اہتمام ایک ایشیائی کانفرنس ہوئی ۔ ان کی دعوت کے تحت میں بھی اس میں شریک تھا۔ انڈیا کے پروفیسر زبیر فاروقی نے بتایا کہ کانفرنس کے دوران ایک بار وہ اور ایک پاکستانی ڈیلی گیٹ بس میں ساتھ تھے۔ پاکستانی صاحب نے پوچھا کہ آپ کیا کہتے ہیں۔ فاروقی صاحب نے کہا کہ میں جامعہ ملیہ (دہلی) میں عربی شعبہ میں استاد ہوں۔ پاکستانی صاحب نے دوبارہ پوچھا کہ آپ کو کتنی تنخواہ ملتی ہے۔ زبیر فاروقی صاحب نے ناگواری کے ساتھ اپنی ماہانہ تنخواہ بتائی۔ یہ سن کر پاکستانی صاحب نے کہا؛ اتنی رقم میں آپ کا گزر کیسے ہوتا ہے۔ اس گفتگو کے وقت مولانا عبد الحمید رحمانی موجو دتھے۔ انھوں نے فوراً کہا کہ آپ کو یہ کہنا چاہئے تھا کہ ہاں، اتنی رقم میں تو گزر نہیں ہو سکتا۔ مگر آپ ہر مہینہ جو رقم بھیج دیتے ہیں اس کی وجہ سے کام چل جاتا ہے۔ ہر آدمی کو معلوم ہے کہ جو وقت گزر گیا وہ دوبارہ واپس آنے والا نہیں۔ مگر لوگوں کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page