Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 128

By Maulana Wahiduddin Khan

زندگیوں کو دیکھیے تو ایسا محسوس ہوگا جیسے اس جانی ہوئی بات کو بھی اب تک کسی نے نہیں جانا۔ لوگ وقت کو اتنی بے دردی کے ساتھ ضائع کرتے ہیں جیسے کہ وہ ابدی طور پر انھیں حاصل ہے، وہ کبھی ان سے چھینے نہ جائیں گے۔ ۳۱ اگست ۱۹۹۳ آج صبح کی فلائٹ سے میں کولمبو سے واپس آیا۔ وہاں میری ملاقات ایک سلمان پروفیسر سے ہوئی۔ وہ ترجمہ کے کام کے لئے بلائے گئے تھے۔ اسی کام کو وہ پچھلے ۲۵ سال سے کر رہے ہیں۔ وہ عربی سے انگریزی اور انگریزی سے عربی میں فوری ترجمہ کرتے تھے۔ ترجمانی کے کام پر انھیں پوری قدرت حاصل تھی۔ وہ ایک پروفیشنل ترجمان ہیں۔ ان سے کئی بار گفتگو ہوئی۔ میں نے محسوس کیا کہ ترجمہ کے کام میں تو وہ بہت ماہر ہیں۔ مگر کسی فکری موضوع پر بولنے کے لئے وہ بالکل نا اہل ہیں۔ ترجمہ کے کام کا ایکسپرٹ فکری موضوع پر بچوں کی سی بات کرنے لگتا تھا۔ اسی کے ساتھ میں نے دیکھا کہ ان کی زندگی نہایت پر سکون ہے۔ میں نے کبھی ان کو پریشان نہیں پایا۔ اصل یہ ہے کہ تفکیری صلاحیت کے لئے تخلیقی صلاحیت درکار ہے۔ اور تخلیقی صلاحیت کبھی پر سکون ذہن میں جمع نہیں ہوتی۔ مذکورہ صاحب کا پر سکون مزاج ان کے ترجمانی کے کام میں بہت مددگار تھا، مگر اس مزاج کی انھیں یہ قیمت دینی پڑی کہ ان کے اندر تخلیقی فکر پیدا نہیں ہوا۔ یکم ستمبر ۱۹۹۳ بمبئی کے ایک تاجر نے ہندوؤں کی شکایت کی۔ انھوں نے کہا کہ ہندو متعصب اور مسلم دشمن ہوتے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ بمبئی میں بزنس کرتے ہیں تو آپ کو ہندوؤں سے سابقہ پیش آتا ہے یا نہیں۔ انھوں نے کہا کہ میرا تو پارٹنر ہندو ہے۔ ہمارا کام زیادہ تر ہندوؤں کے درمیان ہوتا ہے۔ میں نے پوچھا کہ ذاتی معاملات میں آپ نے ہندوؤں کو کیسا پایا۔ انھوں نے کہا کہ بہت اچھا۔ میں نے کہا کہ پھر آپ ڈبل اسٹینڈرڈ کیوں ہیں۔ ذاتی معاملہ میں آپ ہندوؤں کو اچھا سمجھتے ہیں اور ملی مسئلہ میں ہندوؤں کی برائی کر رہے ہیں۔ یہی بیشتر مسلمانوں کا حال ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ذاتی معاملہ میں ان مسلمانوں کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page