Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 129

By Maulana Wahiduddin Khan

سوچ ان ٹرسٹ کے تحت چلتی ہے۔ اور جب ملی مسئلہ سامنے تو فوراً اس کو قومی پرسٹج کے ذہن سے دیکھنے لگتے ہیں۔ ذاتی معاملہ میں ان کا نقطہ نظر انسانی ہوتا ہے اور ملی معاملہ میں ان کا نقطہ نظر قومی۔ مسلمانوں کا یہ مزاج ان کے دین اور دنیا دونوں کے لیے ہلاک خیز حد تک غلط ہے۔ انٹرسٹ کے جذبہ کے تحت کسی سے معاملہ کرنا ہو تو آدمی ہمدردی کا انداز اختیار کرتا ہے۔ مگر جب پرسٹج کا ذہن ہو تو آدمی فوراً فریق ثانی کو رقیب اور حریف کے انداز میں دیکھنے لگتا ہے۔ فریق ثانی کے بارہ میں جب آپ کے اندر ہمدردی کا جذبہ ہو تو معاملات خوش اسلوبی کے ساتھ طے ہو جاتے ہیں۔ اور جب فریق ثانی کو حریف سمجھ لیا جائے تو چھوٹی سی بات بھی الجھ کر بڑی بات بن جاتی ہے۔ ۴ ستمبر ۱۹۹۳ء ڈاکٹر سراج الحسین صاحب حیدر آباد میں پیدا ہوئے۔ اب وہ ۲۰ سال سے امریکہ میں رہتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ان کی ملاقات ایک امریکی پروفیسر سے ہوئی۔ سراج الحسین صاحب نے ان سے پوچھا: Do you believe in God اس نے کہا کہ نہیں (No) سراج الحسین صاحب نے پوچھا کہ کیوں نہیں۔ اس نے کہا کہ خدا کے وجود کا کوئی سائنٹفک ثبوت نہیں۔ اس سے اس کی مراد یہ تھی کہ خدا کے اثبات کے لیے کوئی ڈائرکٹ قسم کا ثبوت نہیں ملتا۔ سراج الحسین صاحب نے کہا کہ سائنس میں بہت سی باتیں ڈائرکٹ ثبوت کے بغیر مانی جاتی ہیں۔ پھر آپ اس بنا پر خدا کا انکار کیوں کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر انھوں نے کہا کہ اکسرے (X-Rays) کی مثال لیجیے۔ جرمن سائنس داں رانئٹن (Rontgen) ۱۸۹۰ میں الیکٹرو میگنیٹک ریڈی ایشن کا تجربہ کر رہا تھا، اس نے اپنے سامنے ایک ایسے effect کا مشاہدہ کیا جس کا سبب اسے معلوم نہ تھا۔ اس نے مزید تجربات کے بعد کہا کہ یہ ناقابل مشاہدہ شعاعوں کی بنا پر ہے۔ اس نے ان ناقابل مشاہدہ شعاعوں کو اکسرے (X-Rays) کیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page