آغازِ کلام
Urdu book, p. 130
By Maulana Wahiduddin Khan
سراج الحسین صاحب نے کہا کہ آپ الیکٹرانکس میں ایک چیز کا تجربہ کرتے ہیں ، اس کا effect آپ کو نظر آتا ہے مگر effect پیدا کرنے والے کو آپ نہیں دیکھتے ۔ آپ اُن دیکھی چیز پر اتنا یقین رکھتے ہیں کہ اس کو دیکھی ہوئی چیز کی طرح مانتے ہیں ۔ ۳ ستمبر ۱۹۹۳ مولا نا انعام الرحمن خاں بھوپالی ۲۳ اگست ۱۹۹۳ کو ۷۸ سال کی عمر میں انتقال کر گئے ۔ وہ عالم نہیں تھے ۔ تاہم انھیں مولانا کہا جاتا تھا ۔ وہ مولانا ابو الکلام مودودی کے لٹریچر سے متاثر ہوئے اور آخر وقت تک جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ کے رکن رہے ۔ ریڈنس ویکلی (۲۹ اگست ۱۹۹۳) میں ان پر ایک مضمون چھپا ہے ۔ اس میں درج ہے کہ مرحوم کے اپنے الفاظ میں ، مولانا مودودی کی کتاب " اسلام کا سیاسی نظریہ " نے ان کی زندگی کا رخ متعین کر دیا : In the words of the late Maulana, the famous booklet, “Islam ka Siyasi Nazariya” authored by Maulana Maudoodi, fixed the direction of his life. یہی مولانا مودودی کا اور جماعت اسلامی کے اکثر افراد کا حال ہے۔ ان سب کو اسلام کے سیاسی پہلو ، یا صحیح تر الفاظ میں ، اسلام کی سیاسی تعبیر نے متاثر کیا۔ اور اسی سے ان کی پوری فکری ۔ پھر جن لوگوں کا فکر سیاسی تعبیرات سے بنا ہو اور اسی سے ان کی زندگی کا رخ متعین ہوا ہو وہ اسلام کے ربانی پہلو کی اہمیت کو کیوں کر محسوس کر سکتے ہیں۔ ۴ ستمبر ۱۹۹۳ دیوبند کے دو عالم آئے ۔ میں نے غیر مسلموں کے درمیان دعوت کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ مسلمان تو خود اصلاح یافتہ نہیں۔ پھر وہ دوسری قوموں کو کس طرح اسلام کی دعوت دے سکتے ہیں۔ میں نے تفسیر ابن کثیر ، جلد اول کا صفحہ ۸۵ دکھایا۔ اس میں ابن کثیر نے علما کا اتفاق نقل کیا ہے کہ دعوت کے لئے عامل ہونے کی شرط نہیں ۔ انھوں نے کہا کہ عمل خواہ شرط نہ ہو مگر مناسب طریقہ تو یہی ہے داعی با عمل ہو۔ اس لئے پہلے مسلمانوں کو با عمل بنانا ہے۔ میں نے کہا کہ نماز کے لئے خشوع یقیناً مطلوب ہے لیکن اگر ایک مسلمان کے اندر خشوع نہ ہو تب بھی اس کو نماز پڑھنا ہو گا۔ خشوع کا نہ ہونا نماز کی فرضیت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader