آغازِ کلام
Urdu book, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
One of the observations I have most frequently heard expressed by intellectuals in this country is that the Indian people are conditioned to think within the boundaries of a historically interpreted myth and are hence devoid or deprived of a sense of history. This, they say, makes India more prone than most other societies to repeat the mistakes of the past. (p. 8) ۲۰ جنوری ۱۹۹۳ آج مسٹر بی کے نہرو (۸۳ سال) سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ تقسیم کے وقت وہ فائننس منسٹری میں سکریٹری تھے۔ ۴۸ء میں وہ کراچی گئے تاکہ دونوں ملکوں کے مالی معاملات طے کرسکیں۔ وہاں ان کے ہم رتبہ چودھری محمد علی تھے۔ بی کے نہرو کراچی میں اخبار ڈان پڑھتے تھے۔ اس میں روزانہ انڈیا کے بارہ میں اس قسم کی خبریں چھپتی تھیں کہ انڈیا اسلام اور مسلمانوں کا دشمن ہے۔ یہاں مسلمانوں کا خاتمہ کیا جارہا ہے۔ ہندوستان میں ہندوؤں کا ایک ہی کام ہے کہ وہ مسلمانوں کو قتل کر رہے ہیں۔ مسٹر بی کے نہرو نے چودھری محمد علی سے کہا کہ یہ سب تو جھوٹ ہے۔ تمھارے اخبارات روزانہ جھوٹی خبریں چھاپتے ہیں، اور تم ان پر روک نہیں لگاتے۔ چودھری محمد علی نے کہا کہ یہ ہماری قومی ضرورت ہے۔ ہم کو ایک خارجی دشمن چاہیے تاکہ ہم اپنے کو متحد کر سکیں: We need an external enemy to unite us. بی کے نہرو نے کہا کہ پھر تم یہ جھوٹ کب تک چلاؤ گے۔ چودھری محمد علی نے کہا کہ صرف پانچ سال تک۔ اس کے بعد اس کی ضرورت باقی نہ رہے گی۔ بی کے نہرو نے کہا کہ جس طرح تم لوگ ” اسلام ان ڈینجر کا نعرہ لگا رہے ہو، اگر ہم بھی انڈیا میں ہندوانم ان ڈینجر کا نعرہ لگانے لگیں تو پھر کیا ہوگا۔ چودھری محمد علی نے کہا کہ انڈیا میں ایسا نہیں چلے گا کیوں کہ تمھارا مذہب فنائسزم کے لئے نا اہل ہے: Because your religion is incapable of fanaticism. ہندو ازم بلاشبہ فنائسزم کے لئے نا اہل تھا۔ مگر پاکستان کی جھوٹی سیاست نے ہندوؤں کو بھی فنانٹک بنا دیا۔ ٦ دسمبر کو بابری مسجد کا ڈھایا جانا اسی کا نتیجہ ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader