Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 131

By Maulana Wahiduddin Khan

کو ساقط نہیں کرتا۔ یہی معاملہ داعی کے لائحہ عمل کا ہے۔ اگر داعی کے اندر عمل ہے تو بہت اچھا ہے، مگر یہ جائز نہ ہوگا کہ اگر مسلمانوں کے اندر عمل موجود نہ ہو تو وہ دعوتی کام نہ کریں۔ ۵ ستمبر کو میں اورنگ آباد میں تھا۔ پہلی بار جب میں اورنگ آباد گیا تو وہاں صرف چند آدمیوں کی ایک چھوٹی سی میٹنگ ہو گی تھی۔ اس بار صرف میری تقریر کے نام پر جلسہ ہوا اور ہزاروں آدمی صرف میری تقریر سننے کے لئے جمع ہو گئے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل خاص ہے۔ مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ الرسالہ مشن تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اور وہ وقت آنے والا ہے جب کہ ملک میں الرسالہ کی آواز ہی سب سے زیادہ طاقت ور آواز ہوگی۔ ان شاء اللہ العزیز۔ ۶ ستمبر ۱۹۹۳ زمین کی سطح کا ۷۲ فیصد حصہ پانی سے ڈھکا ہوا ہے۔ اور اگر پہاڑوں کو ہٹا کر سطح زمین کو ہموار کر دیا جائے تو ساری زمین پانی سے ڈھک جائے گی۔ انسانی جسم کا ۵۸ فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے۔ زندہ اشیاء کو اپنی زندگی برقرار رکھنے کے لئے سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ پانی ہے۔ دوسرے سیاروں پر زندگی اسی لئے نہیں کہ وہاں پانی موجود نہیں۔ ۷ ستمبر ۱۹۹۳ اس دنیا میں پیدا ہونے والا ہر انسان عاجز ہے۔ خواہ بظاہر وہ کمزور ہو یا طاقتور۔ آدمی کے پاس عجز مطلق کے سوا اور کوئی سرمایہ نہیں۔ مگر آدمی کی اس عاجزانہ حیثیت پر قدرت کا پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ آدمی بظاہر اپنے کو توانا محسوس کرتا ہے حالاں کہ باعتبار حقیقت وہ صرف عاجز ہے۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں مگر مجھے اپنا معاملہ ایک استثنائی معاملہ نظر آتا ہے۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میرے اور سے اللہ تعالیٰ نے قدرت کا ظاہری پردہ ہٹا دیا ہے۔ میں اپنے آپ کو اندر سے بھی عاجز بناتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page