آغازِ کلام
Urdu book, p. 132
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک ہندو جرنلسٹ مسز لیتونت دلیش کچھ انٹرویو کے لئے آئے۔ ان کے مختلف سوالوں میں سے ایک سوال یہ تھا کہ 'اسلام میں آلوچنا (تنقید) کو برداشت نہیں کیا جاتا'۔ میں نے کہا کہ یہ تو الٹی بات ہے۔ اسلام میں تو تنقید یا اختلاف کو پسند کیا جاتا ہے۔ ایک حدیث ہے کہ: اختلاف امتّی رحمتہ۔ اس میں اختلاف سے مراد وہی چیز ہے جس کو انگریزی میں ڈیسنٹ (dissent) کہا جاتا ہے۔ یعنی اختلافِ رائے۔ اسلام کے دور اول میں اختلاف رائے یا تنقید عام تھی۔ کوئی بھی آدمی کسی شخص پر تنقید کر سکتا تھا۔ اس سلسلہ میں دور اول کے کئی واقعات بتائے۔ مذکورہ جرنلسٹ بہت خوش ہوا۔ جاتے ہوئے اس نے کہا کہ اسلام کے بارے میں میرے بہت سے شبہات تھے۔ آج سب ختم ہو گئے۔ ۹ ستمبر ۱۹۹۳ دارالعلوم دیوبند کے سابق شیخ الحدیث مولانا حسین احمد مدنی (۱۹۵۷-۱۸۷۹) نے اپنے آخری زمانہ میں جماعت اسلامی کے خلاف کچھ تحریریں شائع کرائی تھیں۔ ان میں بڑے زور شور کے ساتھ یہ مسئلہ بیان کیا گیا تھا کہ "کلمہ گو کے لئے جنت ہے"۔ موجودہ زمانہ میں اکثر علما کا یہی حال ہے۔ میں جب اس پر غور کرتا ہوں تو مجھے سخت تعجب ہوتا ہے کہ یہ لوگ آخر حقیقت دین سے اتنا زیادہ بے خبر کیوں ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ بخاری کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ من قال لا الہ دخل الجنۃ۔ مگر اس کی تشریح مسلم کی روایت سے ہورہی ہے۔ جس میں یہ الفاظ ہیں کہ من عرف ان لا الہ الا اللہ دخل الجنۃ پوری حدیث پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا اصل حقیقت یہ ہے کہ عارف کلمہ کے لئے جنت ہے نہ کہ رٹ آئل کلمہ کے لئے۔ ایک ہندو جرنلسٹ لیشونت دلش کھ سے ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران کشمیر کا ذکر آیا۔ انھوں نے اس سے اتفاق کیا کہ نئی دہلی کی طرف سے کشمیر کی ترقی کے لئے جو پیسہ دیا گیا وہ وہاں کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader