آغازِ کلام
Urdu book, p. 133
By Maulana Wahiduddin Khan
عوام کو بہت کم پہنچا۔ زیادہ تر وہ کشمیری لیڈروں کی جیب میں چلا گیا۔ اس کی وجہ سے کشمیر کے لوگوں میں ایک قسم کی مایوسی کا احساس پیدا ہوا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ ہندوستان کے ساتھ الحاق سے انہیں کوئی خاص فائدہ نہیں ملا۔ مٹر ڈیش کمنہ نے کہا کہ اس بارے میں کشمیر کے سابق گورنر جگموہن سنگھ نے لکھا ہے کہ بطور واقعہ یہ بات صحیح ہے۔ مگر اس کا اصل سبب دستور ہند کی دفعہ ۳۷۰ ہے۔ یہ دفعہ ہندوستان کو مجبور کرتی ہے کہ وہ کشمیری ترقی کے لئے جو رقم دے وہ وہاں کے پولٹیکل لیڈروں کی معرفت دے۔ اس لئے ضرورت ہے کہ دفعہ ۳۷۰ کو ختم کر دیا جائے تاکہ دہلی اس پوزیشن میں ہو جائے کہ وہ براہِ راست طور پر کشمیر کی ترقی کے لئے کام کر سکے۔ میں نے کہا کہ جو کچھ کشمیر میں ہوا اور ہی ملک کی تمام دوسری ریاستوں میں بھی ہوا۔ ہر جگہ کے لوگوں نے امداد کی رقمیں لوٹ لیں اور ریاست کے عوام محروم رہ گئے۔ پھر دوسری ریاستوں میں بھی کیا کوئی دفعہ ۳۷۰ موجود تھی۔ یہی وہ چیز ہے جس کو میں نے ایک میٹنگ میں Pseudo intellectualism کہا تھا، ہمارے ملک کو سب سے زیادہ نقصان سوڈ و انٹلکچول سے پہنچا ہے۔ مسٹر جگموہن بھی انہی میں سے ایک ہیں۔ ۱۱ ستمبر ۱۹۹۳ آج کے تمام اخباروں میں صفحہ اول کی پہلی خبر یہ تھی کہ پی ایل او اور فلسطینی آزادی کی تنظیم اور اسرائیل نے ایک دوسرے کو تسلیم کر لیا۔ ہندوستان ٹائمز کی سرخی تھی : Israel, PLO formally recognise each other. اس کے مطابق غازہ اسٹرپ اور جیریکو (Jericho) میں اسرائیل فلسطینیوں کو آٹونومی (محدود آزادی) کا حق دیدے گا اور اس کے جواب میں پی ایل او پورے فلسطین میں اسرائیل کی حکومت تسلیم کر لیں گے۔ آج تمام اخباروں میں اس فیصلہ پر ایڈ یٹوریل چھپا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا نے اس کو ایک ڈرامائی آغاز (dramatic beginning) کہا ہے۔ پیٹرییاٹ نے اپنے ایڈ یٹوریل کی سرخی ان الفاظ میں قائم کی ہے۔ _ مغربی ایشیا میں نقطہ انقلاب :

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader