آغازِ کلام
Urdu book, p. 134
By Maulana Wahiduddin Khan
Turning point in West Asia. کچھ لوگوں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ دعوتی نقطۂ نظر سے ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ دورِ قدیم اور دورِ جدید کے فرق کو سمجھایا جائے۔ پہلے زمانہ میں جو قانونی تفریق تھی وہ سرکاری مذہب اور غیر سرکاری مذہب کی بنیاد پر تھی، اب یہ تفریق امن اور تشدد کی بنیاد پر ہے۔ یعنی پہلے سرکاری مذہب کو قانونی اجازت تھی، اور غیر سرکاری مذہب کو کچل دیا جاتا تھا۔ اب یہ تفریق ختم ہو چکی ہے۔ اب جو تفریق ہے وہ یہ ہے کہ پر امن طور پر اگر آپ تحریک چلائیں تو آپ کو اپنی تحریک چلانے کی پوری اجازت ہوگی۔ لیکن اگر آپ تشدد کی بنیاد پر تحریک چلائیں تو وہ غیر قانونی سمجھی جائے گی اور آپ حکومت کی زد میں آجائیں گے۔ ۱۳ ستمبر ۱۹۹۳ کشمیر کے ایک صاحب سے بات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ انڈیا نے ۱۹۴۸ میں وعدہ کیا تھا کہ وہ کشمیر میں ریفرنڈم کرائے گا۔ مگر اس نے ریفرنڈم نہیں کرایا۔ میں نے کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان حقیقتوں کو اتنا کم کیوں جانتے ہیں۔ آپ لوگوں کو یہ حقیقت جاننا چاہئے کہ پولیٹیکل فیصلے ہمیشہ حال کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ ماضی کی بنیاد پر کبھی پولیٹیکل فیصلے نہیں ہوتے۔ پی ایل او کا اسرائیل کو تسلیم کرنا اسی حقیقت کا اعتراف ہے۔ پی ایل او کے لیڈر چالیس سال سے یہ کوشش کرتے رہے کہ وہ ماضی کی بنیاد پر فلسطین کا فیصلہ کرائیں۔ آخر کار انھیں معلوم ہوا کہ یہ ناممکن ہے۔ چنانچہ انھیں اس پر راضی ہونا پڑا کہ وہ حال کی سیاسی منطق کو اس معاملہ میں تسلیم کر لیں ۔ ۱۴ ستمبر ۱۹۹۳ ۱۴ ستمبر کو واشنگٹن (وھائٹ ہاؤس) میں فلسطینی لیڈر یاسر عرفات اور اسرائیل وزیر اعظم یترک را بن کے درمیان ایک دوسرے کو تسلیم کرنے کے معاہدہ پر دستخط ہوگئے ۔ اسرائیل نے فلسطینیوں کو دو چھوٹے علاقے میں محدود وقتی آزادی دی دی جو کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کی طرح ایک دوسرے سے الگ الگ ہیں ۔ حد یہ کہ ۱۹۴۸ کے بعد تک تمام دنیا کے مسلمانوں کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader