Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 135

By Maulana Wahiduddin Khan

موقف یہ تھا کہ وہ اسرائیل کے وجود کو کسی قیمت پر ماننے کے لئے تیار نہ تھے۔ پچھلے پچاس سال سے ساری دنیا کے تمام مسلمان فلسطینی تحریک کے حامی تھے۔ اس ہم میں جان و مال کا جو نقصان ہوا وہ اتنا زیادہ ہے کہ اس کا کوئی شمار نہیں کیا جاتا۔ شیخ حسن البنا سے لے کر مولانا ابوالحسن علی ندوی تک کوئی ایک شخص نہیں جو اس معاملہ میں فلسطینیوں کی حمایت نہ کر رہا ہو۔ مگر ان سب کے باوجود فلسطینیوں کو اور تمام دنیا کے مسلمانوں کو نہایت ذلت کے ساتھ اس صلح کو قبول کرنا پڑا۔ فلسطین کا یہ معاملہ اس حقیقت کا آخری اظہار ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان اللہ کی نظر میں ایک قسم کے غیر مطلوب انسان بن چکے ہیں۔ امت پر وہ دور آ گیا ہے جس کی پیشین گوئی حدیث میں ان الفاظ میں کی گئی تھی: يذهب الصالحون الاول فالاول وتبقی حثالة کثالة الشعیر لا یباليهم الله بالة فتح الباری ۲۵۶/۱۱ ۱۵ستمبر ۱۹۹۳ اقبال کا ایک شعر ہے کہ مصطفی کے چراغ اور ابولہب کے شرارہ کے درمیان ازل سے مقابلہ جاری رہا ہے : ستیزه کار رہا ہے ازل سے تا امروز چراغ مصطفوی سے شرار ابولہبی اس شعر میں مصطفیٰ اور ابولہب کو اگر لفظی معنی میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مصطفیٰ اور ابولہب دونوں ازل سے موجود تھے۔ حالاں کہ یہ درست نہیں۔ یہاں یہ الفاظ علامتی معنی میں نہیں۔ مصطفیٰ کا لفظ حق کی علامت ہے اور ابولہب کا لفظ باطل کی علامت۔ نیز ازل کا لفظ بھی علامتی معنی میں ہے نہ کہ منطقی معنی میں۔ شاعر نے یہ نہیں کہا کہ شعر میں یہ الفاظ وہ علامتی معنی میں استعمال کر رہے ہیں، ان باتوں کو اپنی عقل سے سمجھنا پڑتا ہے۔ اسی طرح ہر عبارت کو سمجھنے کے لئے عقل ضروری ہے، جو لوگ بے عقلی کے ساتھ مطالعہ کریں وہ نہ انسانی کلام کو سمجھ سکتے اور نہ خدائی کلام کو۔ ٹیلی فون پر ایک صاحب نے کہا کہ میں جامع مسجد سے عادل اسیر بول رہا ہوں۔ انھوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page