Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 136

By Maulana Wahiduddin Khan

نے کہا کہ میں آپ کے ادارہ میں ملازم تھا۔ مگر آپ کے صاحبزادہ ڈاکٹر ثانی اثنین نے میرے ساتھ بہت بد معاملگی کی۔ وہ تقریری انداز میں دیر تک بولتے رہے اور کہا کہ میں آپ سے ملنے کے لئے وقت چاہتا ہوں۔ میں نے کہا کہ انتظامی امور سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے۔ البتہ آپ کوئی متعین شکایت بتائیں تو میں اس پر غور کروں گا۔ مگر وہ ایک بھی متعین شکایت نہ بتا سکے۔ پھر میں نے کہا کہ میں تبلیغی جماعت کے رحمن نیر صاحب کو ثالث بناتا ہوں۔ آپ ان سے اپنی پوری بات کہیں ۔ وہ جو فیصلہ دیں گے، میں اس کو مان لوں گا۔ وہ اس پر راضی نہیں ہوئے ۔ میں نے کہا کہ پھر جماعت اسلامی کے مکتبہ کے منیجر اقبال جاوید صاحب کو ثالث بنا لیجئے۔ وہ اس پر بھی راضی نہیں ہوئے ۔ پھر میں نے کہا کہ مدرسہ حسین بخش کے استاد مولانا قاسم صاحب کو ثالث بنا لیجئے ۔ وہ اس پر بھی راضی نہیں ہوئے۔ پھر میں نے کہا کہ جماعت اہل حدیث کے مولانا عبد الحمید رحمانی صاحب کو ثالث بنا لیجئے ۔ وہ اس پر بھی راضی نہیں ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں اور آپ ہی اس کا فیصلہ کریں۔ میں نے کہا کہ میں ایک مولوی آدمی ہوں۔ میرا کام لکھنا پڑھنا اور تقریر کرنا ہے۔ انتظامی امور کی واقفیت مجھے نہیں ہے۔ اس لئے میں ایسے معاملہ میں ثالثی کا کام نہیں کر سکتا۔ وہ مصر رہے تو میں نے کہا کہ آپ کے پڑوس میں جامع مسجد کے امام مولانا عبد اللہ بخاری ہیں ، ان سے پوچھ کر مجھے بتائیے کہ انتظامی معاملہ کا ثالث ایک مولوی بن سکتا ہے یا ایک ایسا شخص جو انتظام کا تجربہ رکھتا ہو اور اس سے واقف ہو ۔ وہ اس پر بھی راضی نہیں ہوئے۔ اس کے باوجود انھیں یہی یقین تھا کہ وہ حق پر ہیں۔ غلطی صرف دوسرے کی ہے نہ کہ ان کی ۔ ۱۷ستمبر ۱۹۹۳ ڈیلی ٹیلیگراف میں پیٹرک بشپ (Patric Bishop) کے قلم سے ایک رپورٹ فلسطینیوں اور اسرائیل کے معاہدہ کے بارے میں چھپی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے مجبورانہ اسباب کے تحت فلسطینی لیڈر یا سر عرفات کو بہت چھوٹی چیز پر راضی ہونا پڑا، کیوں کہ اس کے بعد انھیں کچھ بھی ملنے والا نہیں تھا :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page