آغازِ کلام
Urdu book, p. 137
By Maulana Wahiduddin Khan
The peace deal may be a small thing at first sight, but it was a choice between something or nothing. And for once history compelled Palestinians to choose something. مگر اسی واقعہ کے بارہ میں دہلی کے مسلم اخبار نئی دنیا (۱۷-۲۳ ستمبر ۱۹۹۳) نے جو رپورٹ چھاپی ہے اس کی سرخی یہ ہے __ فلسطینیوں کے جذبہ جہاد اور جوش ایمانی نے اسرائیل کو سمجھوتہ کرنے پر مجبور کر دیا۔ اس تقابل سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو کیوں مغربی پریس سے یہ شکایت ہے کہ وہ مسلم خبروں کو غلط صورت میں پیش کرتا ہے۔ پیٹرک بشپ نے اصل واقعہ کو ویسا کا ویسا ہی بیان کر دیا ہے۔ مگر اپنی یہ تصویر مسلمانوں کو پسند نہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی شکست کو بھی فتح کے الفاظ میں بیان کیا جائے۔ مسلمانوں کے اپنے اخبارات یہی کام کر رہے ہیں جس کی ایک مثال مذکورہ اردو سرخی بھی ہے۔ اسی لئے مسلمانوں کو 'نئی دنیا' پسند ہے اور "ڈیلی ٹیلی گراف" ناپسند۔ ۱۸ ستمبر ۱۹۹۳ قرآن کا کتاب محفوظ ہونا قرآن کی انوکھی صفت ہے۔ اس کی بنا پر ہر مسلمان اسلام کا مبلغ بن جاتا ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ نارمل حالات میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان تعلقات اور تماد جتنا جاری ہو جائے۔ مثلاً مصر میں فرعون ثانی کا مومیائی کیا ہوا جو میوزیم میں رکھا ہوا ہے۔ حکومتِ مصر نے پایا کہ اس کے جسم میں کڑک پیدا ہو گیا ہے۔ اس کو ایک ماہر کی تلاش ہوئی۔ آخر کار حکومتِ مصر نے موریس بکائی (Maurice Bucaille) کو بلایا جو ایک فرانسیسی عالم تھا۔ یہ فرانسیسی عالم جب قاہرہ آیا تو کسی مسلمان نے اس سے کہا کہ تم جانتے ہو، اس فرعون کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔ اس کے بعد اس نے موریس بکائی کو یہ آیت بتائی: اليوم ننجيك ببدنك لتكون لمن خلفك آية موریس بوکائی کو یہ بات بہت عجیب لگی کہ فرعون ثانی کا ذکر قرآن میں ہے جب کہ سسوال پہلے کوئی سرے سے یہ جانتا ہی نہ تھا کہ فرعون ثانی کا جسم کہیں محفوظ حالت میں موجود ہے۔ انھوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader