Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 138

By Maulana Wahiduddin Khan

نے قرآن پڑھنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنی کتاب (بائبل، سائنس اور قرآن) لکھی۔ سلطان ٹیپو نے انگریزوں سے جنگ کی۔ ان کو بری طرح شکست ہوئی۔ ۴ مئی ۱۷۹۹ کو وہ انگریزی فوج کے ہاتھوں بے بسی کے ساتھ قتل کر دئے گئے۔ اس کے بعد شاہ عبدالعزیز دہلوی نے ۱۸۰۶ میں انگریزوں کے خلاف جہاد و قتال کا فتویٰ دیا۔ یہ فتویٰ سراسر نادانی کا فتویٰ تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ بعد کے زمانہ میں ہمارے علماء نے اسلام کو فقہی نظام میں ڈھال دیا۔ وہ اسلام کے فقہی پہلو سے واقف تھے۔ مگر وہ اسلام کے حکیمانہ پہلو سے بے خبر رہے۔ اگر وہ اسلام کے حکیمانہ پہلو کو جانتے تو انھیں معلوم ہوتا کہ احد کی جنگ (۶۲۵ء) میں جب یہ ظاہر ہو کہ ہو کر جنگ کے میدان میں اسلام کو فیصلہ کن فتح ملنا مشکل ہے تو آپ نے ۶۲۸ میں حد بیبیہ کی صلح کر لی۔ یعنی آپ نے میدان مقابلہ کو بدل دیا۔ پہلے اگر اسلام اور غیر اسلام کا مقابلہ جنگ کے میدان میں ہو رہا تھا تو اب دونوں کا مقابلہ فکرا اور نظریہ کے میدان میں ہونے لگا جو آخر کار فتح مبین تک پہنچا۔ • ہمارے علماء اگر اسلام کے حکیمانہ پہلوئوں سے آگاہ ہوتے تو وہ ٹیپو کی شکست کے بعد الحد بیبیہ پرنسپل کو اختیار کرنے کا فتویٰ دیتے۔ ۲۰ ستمبر ۱۹۹۳ ایک صاحب نے بابری مسجد کے بارہ میں سوال کیا۔ میں نے کہا کہ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کے بعد میں نے جو فارمولا پیش کیا تھا، اس میں کہا گیا تھا کہ مسلمان ایک کو بھلا دیں اور ہندو ایک کے بعد کو بھلا دیں۔ خدا کے فضل سے دونوں عملاً اس کو مان چکے ہیں۔ حالات بتاتے ہیں کہ مسلمان اجودھیا کی مسجد کو بھلا چکے ہیں۔ اسی طرح ہندو بھی ایک کے بعد کی تمام مسجدوں کو بھلا چکے ہیں۔ اب جو مسئلہ ہے وہ صرف چند نااہل اور نادان رہنمائوں کا ہے جو انتہائی غیر ضروری طور پر اس مسئلہ کو زندہ کرنا چاہتے ہیں۔ مگر مجھے یقین ہے کہ دونوں فرقوں میں سے کوئی بھی اب اس موڈ میں نہیں۔ اس لئے ان نام نہاد رہنمائوں کی بات چلنے والی نہیں۔ یہ لیڈر اور ان کے نعرے دونوں اپنے آپ مر جائیں گے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page