Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 139

By Maulana Wahiduddin Khan

پاکستان کا روزنامہ مجھے جرائم نامہ معلوم ہوتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اوپر سے لیکر نیچے تک وہاں کا ہر آدمی مجرم بن چکا ہے۔ پاکستان کے کچھ اخبارات پڑھ رہا تھا۔ اس کے بعد میری زبان پر یہ الفاظ آگئے : آہ وہ لوگ جو جہنم کے قابل بھی نہیں ، وہ جنت کی کھٹا کی پر لائن لگائے ہوئے ہیں۔ ۲۲ ستمبر ۱۹۹۳ میرا بار بار کا تجربہ ہے کہ ہندو کے ساتھ اگر حسن سلوک کیا جائے تو وہ جھک جائے گا۔ مگر مسلمان کا معاملہ مختلف ہے۔ کوئی بھی حسن سلوک مسلمان کو نہیں جھکاتا۔ اس فرق پر غور کرتے ہوئے سمجھیں آیا کہ ہندو کا کیس عداوت کا کیس ہے اور مسلمان کا کیس قساوت کا کیس۔ قرآن کی گواہی ہے کہ سیئہ کے جواب میں حسنہ کا سلوک کر کے عداوت کو ختم کیا جا سکتا ہے (41:34) مگر قساوت آدمی کو پتھر سے بھی سخت بنا دیتی ہے۔ ایسا آدمی کسی بھی دلیل یا کسی بھی سلوک سے متاثر نہیں ہوتا (2:74) ۲۳ ستمبر ۱۹۹۳ موجودہ زمانہ کے مسلم لیڈروں کو دیکھتا ہوں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ جو ہر حیات سے بالکل خالی ہو چکے ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ لاہور کے روزنامہ نوائے وقت ۲۱ ستمبر ۱۹۹۳ کے صفحہ اول پر پاکستان کی جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد کی ایک تقریر اسرائیل اور فلسطینیوں کے معاملہ پر چھپی ہے۔ ان کی تقریر کا خلاصہ اس کی سرخی میں ہے۔ سرخی کے الفاظ یہ ہیں : اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اشارہ بھی دیا گیا تو عوام جانوں پر کھیل جائیں گے۔ اس کے بعد اسی اخبار کے صفحہ ۳ پر دوسری خبر ہے۔ اس خبر کی سرخی کا عنوان یہ ہے : خلیجی ریاستوں نے پی ایل او ۔ اسرائیل معاہدے کی حمایت کر دی ۔ (واضح ہو کہ پی ایل او کے معاہدہ میں اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے) سوال یہ ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا واقعہ تو ہو چکا۔ پھر موصوف اور ان کے ساتھی جان پر کھیلنے کے لئے مزید کس وقت کا انتظار کر رہے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page