Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 140

By Maulana Wahiduddin Khan

۲۴ستمبر ۱۹۹۳ مکی دور کے واقعات میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوقِ عکاظ میں بنو کعب بن ربیعہ کے پاس گئے اور اس سے کہا کہ تم مجھ کو اپنی پشت پناہ (منعۃ) میں لے لو تاکہ میں اپنے رب کا پیغام پہنچا سکوں۔ اس کے بعد آپ نے ان سے کہا: ولم اکره احدا منکم علی شیء (حياة الصحابة ۱/ ۹۵) اس جملہ میں غیر ذالك محذوف ہے۔ پورا جملہ اس طرح ہوگا کہ حتی اببلغ رسالة ربی و لم اکره احد منکم علی شیء غیر ذالك (تاکہ میں اپنے رب کا پیغام پہنچا سکوں اور میں تم میں سے کسی کو اس کے علاوہ مزید کسی چیز پر مجبور نہ کروں گا۔ اس جملہ میں رسالت رب سے سارا دین مراد نہیں لیا جا سکتا۔ اس میں لازماً دین کا وہی حصہ مراد ہے جو مکہ میں اترا تھا۔ مکی دور کو عام طور پر مظلومیت کے دور کے مفہوم میں لیا جاتا ہے۔ یہ صحیح نہیں۔ مکی دور سے مراد دراصل دعوت کا دور ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دعوت کے دور میں مخاطب سے بس اتنی ہی بات کہی جائے گی جو مکہ میں اتری۔ یعنی توحید، عبادتِ اخلاق اس کے سوا کسی اور چیز کے لئے نہ مطالبہ کیا جائے گا اور نہ احتجاج۔ کسی اور سوال پر ہتھیار اٹھانے کا تو کوئی سوال ہی نہیں۔ ۲۵ستمبر ۱۹۹۳ جدید تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ آدمی جب سوتا ہے تو اس کے کانشس مائنڈ کا رشتہ اُن کانشس مائنڈ سے ٹوٹنے لگتا ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ گہری نیند میں پہنچتا ہے تو دونوں کا رشتہ مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے۔ اب صرف اس کا اَن کانشس مائنڈ کام کرتا ہے۔ اس کا ان کانشس مائنڈ عملاً پوری طرح محو ہو چکا ہوتا ہے۔ چنانچہ آدمی گہری نیند کی حالت میں جو خواب دیکھتا ہے اس پر اس کے شعوری ذہن کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ قرآن میں ہے کہ نیند کے وقت اللہ آدمی کی روح کو قبض کر لیتا ہے (الزمر ۴۲)، ہو سکتا ہے کہ اس سے مراد انسانی دماغ کی یہی حالت ہو۔ یہ بات پہلے بھی عام تجربہ کے تحت معلوم تھی کہ سونے کے وقت آدمی بے خبر ہو جاتا ہے۔ مگر اب یہ چیز باقاعدہ سائنسی تحقیق کے ذریعہ ثابت شدہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page