آغازِ کلام
Urdu book, p. 15
By Maulana Wahiduddin Khan
سنن ابی داؤد میں ایک روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ليشربن ناس من امتی الخمر، ليسمونها بغير اسمها (۲ / ۲۹۵) میری امت کے کچھ لوگ شراب ضرور پئیں گے، وہ اس کو دوسرا نام دے دیں گے۔ عام طور پر اس حدیث کو عرفِ "شراب" سے متعلق سمجھا جاتا ہے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ یہاں شراب ایک علامتی لفظ کے طور پر آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بعد کے زمانہ میں لوگ غلط افعال اختیار کریں گے۔ مگر اس کا نام ایسا رکھ دیں گے جس سے بظاہر معلوم ہو کہ وہ درست ہے، جیسے کہ شراب کی سیاست اسلام میں ناجائز ہے۔ مگر اس کو خوبصورت نام دے کر جائز کر لیا گیا ہے۔ ۲۲ جنوری ۱۹۹۳ مسٹر جی کے نہرو نے بتایا کہ لکھنؤ کے ایک مسلمان کے نہرو خاندان سے تعلقات تھے۔ ۴۶ - ۱۹۳۷ کے ہنگاموں سے متاثر ہو کر وہ مسلم لیگ ہو گئے اور تقسیم کے بعد انڈیا کو چھوڑ کر پاکستان چلے گئے۔ ایک عرصہ کے بعد مسز وجے لکشمي پنڈت پاکستان گئیں۔ وہاں ان کی ملاقات مذکورہ مسلمان سے ہوئی۔ وہ بڑے جوش کے ساتھ انڈیا میں مسلمانوں کے اوپر ظلم کے خلاف بولتے رہے۔ جب وہ بول چکے تو وجے لکشمي پنڈت نے نرمی سے کہا: اچھا چچا جان، یہ بتاؤ کہ یہاں کیسے ہو۔ وجے لکشمي پنڈت کے اس نرم انداز کا یہ نتیجہ ہوا کہ مذکورہ سلمان کا سارا جوش ٹھنڈا ہو گیا۔ مزید یہ کہ وہی جو پہلے انڈیا کی برائی بیان کر رہا تھا، اب وہ پاکستان کی برائیاں بیان کرنے لگا۔ نرم جواب دین دشمن کو دوست بنا دیتا ہے۔ اور گرم جواب دینا دشمن کی دشمنی میں اور اضافہ کر دیتا ہے۔ مشہور فلسفی اور نفسیات داں ولیم جیمز (۱۹۱۰ ۔ ۱۸۴۲) نے کہا ہے کہ مذہب کا سب سے زیادہ بنیادی عنصر یہ پکار ہے کہ مدد کرو، مدد کرو :

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader