Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 141

By Maulana Wahiduddin Khan

بن گئی ہے۔ ایک مسلمان بزرگ نے کہا کہ آجکل آپ ہندوؤں میں بہت جارہے ہیں۔ آپ نے ہندوؤں تک کیا دعوت پہنچائی اور کتنے ہندوؤں کو دین حق کے سایہ میں داخل کیا۔ میں نے کہا کہ آپ لوگوں نے معاملہ کو اتنا زیادہ بگاڑ دیا ہے اور اتنی نفرت اور دوری پیدا کر دی ہے کہ ابھی براہ راست دعوت کا کوئی سوال نہیں۔ ابھی تو صرف لوگوں کو مانوس کرنا ہے۔ آپ حقیقی طور پر لوگوں کے خیر خواہ ہوں تو موجودہ قسم کے حالات میں آپ اعلان دعوت سے اپنے عمل کا آغاز نہیں کریں گے بلکہ لوگوں کو مانوس بنانے سے اپنی جد و جہد شروع کریں گے۔ آپ کا بیٹا آپ سے ناراض ہو جائے تو آپ اس کی اصلاح کے لئے کہاں سے آغاز فرمائیں گے۔ ناراض بیٹے کو اپنی طرف واپس لانے کے لئے آپ جہاں سے اپنے عمل کا آغاز کرنے والے ہوں بس وہیں سے مدعو کے اوپر عمل کا بھی آغاز کرنا پڑتا ہے۔ ۲۷ ستمبر ۱۹۹۳ء کسی شخص نے ایک سائنس داں سے کہا کہ آپ لوگوں کی ہر دریافت اتفاقی دریافت ہے (Chance discovery)۔ سائنس داں نے جواب دیا کہ تمہارا کہنا صحیح ہے۔ مگر یہ اتفاقی صرف کسی سائنس داں ہی کو پیش آتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی اتفاقی دریافت کے لئے آدمی کو پہلے سے تیار ذہن (Prepared mind) ہونا چاہئے۔ ورنہ اتفاقات اس کے سامنے ظاہر ہوں گے اور وہ اس سے کچھ دریافت نہ کر سکے گا۔ یہی معاملہ میرا بھی ہے۔ قرآن میں ہے کہ یہ کتاب ہدایت ہے متقیوں کے لئے (هدی للمتقين) متقی سے مراد یہاں سنجیدہ ذہن والا انسان ہے۔ سنجیدہ انسان گویا وہ تیار ذہن ہے کہ جب قرآن کی بات اس کے سامنے آئے تو وہ اس کو اخذ کر سکے۔ ۲۸ ستمبر ۱۹۹۳ء ہندوستان میں جو علما و تعلیم دین یا مسجد کی امامت پر اجرت لیتے ہیں ان کو حقیر سمجھا جاتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں اکابرعلماز کو محترم سمجھا جاتا ہے کیوں کہ وہ مدرس یا امام بن کر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page