Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 142

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کی اجرت نہیں لے رہے ہیں۔ لیکن گہرائی کے ساتھ دیکھئے تو اس معاملہ میں اکابر علماء کے مقابلہ میں اصاغر علماء زیادہ بہترہیں۔ کیوں کہ اکابر علماء حکومتوں کے انعام واکرام پر جی رہے ہیں۔ ان اکابر علماء پر امام احمد کا یہ قول صادق آتا ہے کہ دینی تعلیم پر اجرت لینا بہتر ہے سلطان کے انعامات لینے سے ( اخذ الاجرة على التعليم خير من جوائز السلطان) ابن تیمیہ مجموع الفتاویٰ ۳۰ / ۱۹۲ ۲۹ ستمبر ۱۹۹۳ صحابہ و تابعین کے زمانہ میں یہ حال تھا کہ وہ مسجد اور زمینی پیداوار کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ یہاں تک کہ یہ کہا جانے لگا تھا کہ مسلمان جب کسی ملک کو فتح کرتے ہیں تو وہ بیک وقت دو چیزوں کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ مسجد کی تعمیر اور قابل کاشت زمین کا اہتمام (همتم المسلمون عند فتح ای بلد بشيئين في وقت معا هما بناء المسجد وتنظيم الحقل) انور الرفاعی، الاسلام فی حضارته ونظمه ، ۲۸۳ اس بیان میں اصل چیز تعمیر مسجد اور انتظام زراعت ہے۔ اس میں فتح کا ذکر محض اضافی ہے۔ قدیم زمانہ میں فتنہ (religious persecution) کا زور تھا۔ اس لئے پر امن منصوبہ پر عمل کرنے کے مواقع نہیں ملتے تھے۔ موجودہ زمانہ کامل آزادی کا زمانہ ہے۔ اب اس قسم کی رکاوٹ ختم ہو چکی ہے۔ اس لئے اب مسلمانوں کو یہ کرنا ہے کہ وہ جہاں بھی موقع پائیں، مسجد اور تنظیم معیشت میں اپنے آپ کو مشغول کر دیں۔ اب انہیں کسی سے جنگ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ۳۰ ستمبر ۱۹۹۳ ریاض میں ایک بڑا ادارہ ہے جس کا نام ہے : الامانة العامة لهيئة كبار العلماء۔ اس کی طرف سے ایک جرنل مجلة البحوث الاسلامية کے نام سے نکلتا ہے۔ اس کے شمارہ نمبر ۳۶ (۱۴۱۳ ھ) اس میں ایک مضمون تعدد الزوجات فی الاسلام کے عنوان سے ہے۔ اس میں مبررات تعدد الزوجات فی الاسلام کے ذیلی عنوان کے تحت مبرر اول یہ بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی۔ آپ کی وفات ہوئی تو آپ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page