Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 143

By Maulana Wahiduddin Khan

کے یہاں ۹ بیویاں تھیں۔ اور اس میں شک نہیں کہ آپ ہر چیز میں نمونہ ہیں۔ ( الاقتدا برسول الله صلى الله عليه وسلم الذى توفى وفى عصمته تسع زوجات ، ورسول الله صلى الله عليه وسلم بلا شك اسوة وقدوة للمسلمين في كل شئ ) ، ۲۴۸ موجودہ زمانہ میں اس قسم کے مبررات پیش کرنا ظاہر کرتا ہے کہ یہ حضرات اپنے زمانہ کے احوال سے اور جدید ذہن سے بالکل ناواقف ہیں۔ یکم اکتوبر ۱۹۹۳ قرآن میں سور ظن سے منع کیا گیا ہے (الحجرات (۱۲)، مومن کو چاہئے کہ اپنے بھائی مومن کے کلام کو بہترین معنی میں محمول کرے۔ اسلاف میں سے کسی نے کہا کہ تمہارے بھائی کے منہ سے کوئی کلمہ نکلے تو اس کو برے معنی میں نہ لو جب کہ اس کا ایک بہتر مفہوم موجود ہو۔ (لا تظن بكلمة خرجت من اخيك سوءاً وانت تجد لها في الخير محملا) ۲ اکتوبر ۱۹۹۳ مکہ کے عربی اخبار العالم الاسلامی (۲۷ ستمبر۔ ۳ اکتوبر ۱۹۹۳) میں بوسنیا ( یوگوسلاویہ ) کے مسلمانوں کے بارہ میں ایک مضمون ہے۔ اس کا عنوان ہے ۔ یوگوسلاویہ کے چھ ملین مسلمانوں کا خاتمہ کا سامنا : ۶ ملايين مسلم يوغوسلافي تواجهون الابادة بوسنیا کے مسلمانوں کے بارہ میں اس قسم کے مضامین مسلسل مسلم اخباروں اور جرائد میں نکل رہے ہیں۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ 1991 میں جب وہاں کے مسلم لیڈروں نے ”آزاد بوسنیا“ کا اعلان کیا، اس سے پہلے اس علاقہ کے مسلمانوں کا حال کیا تھا۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ اس سے پہلے یہاں کے مسلمان اچھی حالت میں تھے ۔ ان کو مذہبی آزادی حاصل تھی ۔ ایسی حالت میں سوال یہ ہے کہ انھوں نے کیوں ایسا سیاسی اقدام کیا جوان کو زیادہ بری حالت کی طرف لے جانے والا ہو۔ عملی اقدام ہمیشہ موجود حالت سے بہتر حالت کی طرف پہنچنے کے لئے ہوتا ہے نہ کہ موجود حالت کو کھو کر زیادہ بری حالت کی طرف جانے کے لئے۔ پچھلے ہفتہ میں انگلینڈ میں تھا۔ وہاں ایک مسلمان کے ساتھ روزانہ صبح کو قریب کی مسجد

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page