Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 144

By Maulana Wahiduddin Khan

میں فجر کی نماز کے لئے جاتا تھا۔ میں نے دیکھا کہ راستہ میں جب بھی کوئی انگریز مرد یا انگریز عورت ملتی ہے تو وہ اس کو گڈ مارننگ کہتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ یہ انگریزوں کا طریقہ ہے۔ وہ جب راستہ چلتے ہوئے کسی سے ملتے ہیں، خاص طور پر صبح کو تو اس کو اسی طرح سلام کرتے ہیں۔ مذکورہ مسلمان ان کی اسی روایت پر عمل کر رہے تھے۔ میں اس کو ایک اچھی چیز سمجھتا ہوں۔ اسی طرح مسلمانوں کو دوسری قوموں کی روایات میں ان سے شیر کر نا چاہیئے ۔ مگر ہندوستانی مسلمانوں کا مزاج اس کے برعکس ہے۔ اور ہندوستان میں ان کے تمام مسائل کی جڑ ان کا یہی مزاج ہے۔ ۴ اکتوبر ۱۹۹۳ء بنگلور کے ڈاکٹر احمد سلطان ملاقات کے لئے آئے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کی بیوی میسور گئیں وہاں سے گھر کے کام کے لئے دو ہندو لڑکے کے لئے آئیں۔ راجیش (۸ سال) شنکر (۴ سال) ان لڑکوں کا باپ غریب تھا اس لئے پڑھائی چھڑا کر انھیں کام کے لئے بھیج دیا۔ ڈاکٹر احمد سلطان نے اپنی بیوی سے کہا کہ ان بچوں کی پڑھائی بند ہونا ٹھیک نہیں ہے۔ انھیں دوبارہ اسکول میں داخل کر دو۔ فاضل وقت میں وہ ہمارے گھر کا کام بھی کریں گے۔ اب راجیش پانچویں کلاس اور شنکر گیارھویں کلاس میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ان بچوں سے کسی نے پوچھا کہ تمہارے باپ کا نام کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ احمد سلطان ۔ پوچھنے والے کو تعجب ہوا۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے میسور کے باپ نے ہماری پڑھائی چھڑادی تھی اور احمد سلطان ہم کو پڑ ھوار ہے اور ہمارا سارا خرچہ دے رہے ہیں اس لئے اب تو وہی ہمارے باپ ہوئے۔ ۵ اکتوبر ۱۹۹۳ء آج بیٹک کے چار آدمی ملاقات کے لئے آئے۔ ایک صاحب نے کہا کہ آپ کی شانتی یا ترا کو ہم نے ٹی وی پر دیکھا۔ اس میں ہم کو دکھائی دیا کہ ہندو لوگ آکر اپنے گر دوں کے پاؤں چھوڑ رہے ہیں، اسی کے ساتھ انھوں نے آپ کا بھی پاؤں چھوا۔ مگر آپ چپ رہے۔ حالاں کہ پاؤں چھونا تو غلط ہے۔ میں نے کہا کہ اصل یہ ہے کہ آپ کو ہندوؤں سے محبت نہیں۔ آپ کو اپنے بیٹے سے محبت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page