آغازِ کلام
Urdu book, p. 145
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے اس لئے آپ بیٹے کی ہر بات کو برداشت کرتے ہیں۔ مگر ہندو سے محبت نہیں، اس لئے ہندو کی ہر بات پر اس سے لڑنے کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ آج مسٹر پرشاد سنہا (لکھنؤ) ملاقات کے لئے آئے۔ انھوں نے بتایا کہ ۳۰ جنوری ۱۹۴۸ کو جب مہاتما گاندھی کا قتل ہوا اور اس کی خبر اخباروں میں چھپی تو برٹرینڈ رسل نے کہا کہ بہت زیادہ اچھا ہونا بھی بہت برا ہے: It is too bad to be too good. اس کی وجہ یہ ہے کہ جو آدمی زیادہ اچھا ہو وہ منافق نہیں ہوتا۔ وہ بے لاگ سچائی کو بیان کرتا ہے۔ وہ بے لاگ سچائی ہمیشہ کسی کے موافق اور کسی کے خلاف ہوتی ہے۔ اب اس کی بات جس کو اپنے موافق نظر آتی ہے وہ اس سے خوش ہو جاتے ہیں اور جن لوگوں کو اس کی بات اپنے خلاف نظر آتی ہے وہ اس کے دشمن بن جاتے ہیں۔ ۷ اکتوبر ۱۹۹۳ عربی زبان کا ایک پرانا مقولہ ہے: اول العزم المشورة (فیصلہ کا پہلا زینہ مشورہ ہے) آدمی جب ایک پر عزم فیصلہ کرنے جا رہا ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ اس کے بارہ میں باخبر لوگوں سے مشورہ کرے۔ اول مشورہ پھر اقدام۔ ۸ اکتوبر ۱۹۹۳ ایک ندوی عالم کا مضمون نئی دہلی کے اردو ہفت روزہ ملی اتحاد (۱- ۸ اکتوبر ۹۳) میں چھپا ہے۔ اس کا عنوان ہے ۔ امت مسلمہ: ملکی اور بین الاقوامی سازشوں کے گھیرے میں۔ آجکل تمام مسلمان اسی طرح کی بولی بول رہے ہیں۔ مگر یہ باتیں لغویت کی حد تک بے معنی ہیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ امت مسلمہ خدائی مچھلی کے پیٹ میں ہے نہ کہ انسانی سازشوں کے گھیرے میں۔ اس پیٹ سے وہ صرف اس وقت نکل سکے گی جب وہ اس خدائی ذمہ داری کو لے کر اٹھے جس کو اس کے عوام اور خواص دونوں نے بھلا دیا ہے۔ یہ ہے دعوت الی اللہ کی ذمہ داری یعنی خدا کے دین کو خدا کے بندوں تک پہنچانا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader