آغازِ کلام
Urdu book, p. 146
By Maulana Wahiduddin Khan
ابو اسحاق السیعی کا قول ہے کہ صحابہ و تابعین صاحب مال ہونے کو دین میں ایک مدد سمجھتے تھے قال ابو اسحاق السبیعی: کانوا یرون السعة عونا علی الدین مالی وسعت بذات خود نہ اچھی ہے اور نہ بری۔ استعمال کے اعتبار سے وہ اچھی یا بری بنتی ہے۔ مال پاکہ اگر آدمی کے اندر احساس برتری پیدا ہو تو مال برا ہے۔ اور اگر مال کو وہ اپنے لئے دینی مددگار کے طور پر استعمال کرے تو مال بلاشبہ ایک مفید اور مطلوب چیز ہے۔ ۱۰ اکتوبر ۱۹۹۳ مولانا مظفر حسین کشمیری ندوی سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ کشمیر کی موجودہ تحریک کو میں ایک قومی تحریک سمجھتا ہوں نہ کہ اسلامی تحریک۔ اسلامی تحریک دعوت کی بنیاد پر اٹھتی ہے کشمیریوں نے اپنی تحریک دعوت کی بنیاد پر نہیں اٹھائی اس لئے وہ اسلامی تحریک بھی نہیں۔ پھر میں نے کہا کہ اگر آپ دعوت کے اصول کو نہ مانیں تب بھی آپ کی تحریک سنت نبوی کے خلاف ہے۔ بخاری میں حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ : ما خیر رسول الله صلى الله عليه وسلم بين امرين الا اختار ايسرهما. اس سنت کی روشنی میں دیکھئے تو کشمیریوں کے لئے دو میں سے ایک چوئس تھا۔ ایک یہ کہ وہ عدم تشدد کی بنیاد پر اپنی تحریک چلائے، جیسا کہ مہاتما گاندھی نے چلایا۔ اور جیسا کہ حال میں ساؤتھ افریقہ والوں نے چلایا۔ دوسرا طریقہ یہ تھا کہ آپ اپنی تحریک کو تشدد کی بنیاد پر چلائیں۔ آپ لوگوں نے عدم تشدد کو چھوڑ کر تشدد کا طریقہ اختیار کیا۔ یہ حدیث کے الفاظ میں، اختیار اعسر تھا۔ وہ ایسر کو چھوڑ کر العسر کو لین اتھا۔ جو سنت رسول کے خلاف ہے۔ اور جو لوگ سنت رسول کو چھوڑیں وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ ۱۱ اکتوبر ۱۹۹۳ میں ۱۹۷۱ء میں لاہور گیا تھا۔ ایک روز رات کو میں اور میرے میزبان ڈاکٹر اسرار احمد صاحب لاہور (کرشن نگر) میں ان کے مکان کی چھت پر تھے۔ چودھویں کا چاند آسمان میں دکھائی دے رہا تھا۔ ہم دونوں کچھ دیر تک چاند کے حسن کو دیکھتے رہے۔ اس کے بعد اچانک ڈاکٹر اسرار احمد صاحب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader