Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 147

By Maulana Wahiduddin Khan

رہے تھے کہ دیکھیں کیا کوئی اچھا پروگرام آ رہا ہے۔ اچانک اسکرین پر پاکستان کی خاتون سنگر ملیکہ پکھراج اور ان کی لڑکی طاہرہ دکھائی دیں۔ ملیکہ پکھراج مسر بھاٹئیہ کی بہت پسندیدہ مغنیہ ہیں۔ وہ اس اتفاقی دریافت (Chance discovery) پر بہت خوش ہوئے۔ وہ اور ان کی بیوی دونوں ایک گھنٹہ تک گم ہو کر اس کو سنتے رہے۔ For a whole rapturous hour and more we sat spell-bound listening to mother and daughter. آخر میں انہوں نے لکھا ہے کہ ہم کو خدا کا شکر کرنا چاہئے کہ اس نے سٹیلائٹ کے ذریعہ ہم کو ٹیلیویژن پر پروگرام دیکھنے کا موقع دیا: Lord be praised for giving us television programmes through satellite. کیسی عجیب بات ہے کہ دو پڑوسیوں میں چاند اور سٹیلائٹ کے ذریعہ تو ربط قائم ہو، مگر ان کے درمیان براہِ راست انسانی ربط قائم نہ ہوسکے۔ ۱۲ اکتوبر ۱۹۹۳ کشمیر میں اس وقت جو پرتشدد تحریک چل رہی ہے، اس کو کشمیر کے لوگ جہاد کہتے ہیں۔ دو کشمیریوں سے ملاقات ہوئی تو میں نے کہا کہ جہاد سے پہلے دعوت ضروری ہے۔ کیا آپ نے ہندوؤں کو دعوت پہنچائی ہے جو ان کے خلاف آپ جہاد بالسيف کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فقہ کی کتاب ہدایہ میں لکھا ہے کہ اذان دعوت ہے۔ جس مقام پر مسجدوں سے اذان کی آواز میں بلند ہو کر ہندوؤں کے کان میں پہنچ رہی ہوں وہاں دعوت بھی پہنچ گئی۔ کشمیر میں بہت مسجدیں ہیں۔ ہر مسجد سے لاؤ ڈاسپیکر پر اذان دی جارہی ہے۔ اس طرح ان پر دعوت پہنچ گئی ہے۔ اس لئے ہم جہاد کر رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ کسی قوم پر دعوت کا درجہ اتمام حجت تک پہنچ جانا بہت سنگین بات ہے۔ اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page