آغازِ کلام
Urdu book, p. 148
By Maulana Wahiduddin Khan
کے بعد وہ قوم جہنم کی مستحق ہو جاتی ہے۔ اتنی اہم بات کو فقہی مسائل کی کتاب سے نہیں نکالا جا سکتا۔ اس کے لئے قرآن و حدیث کی صریح نص درکار ہے۔ پھر میں نے کہا کہ قرآن میں دعوت پہنچ جانے کا معیار یہ بتایا گیا ہے کہ مدعو کہہ اٹھے کہ تم نے ہمارے اوپر پیغام رسانی کر دی (ولیقولوا درست) دعوت پہنچ گئی ، اس کا معیار دائی کا دعویٰ نہیں بلکہ مدعو کا اعتراف ہے۔ ۱۳ اکتوبر ۱۹۹۳ منگلور کے ڈاکٹر حبیب رحمان (21338 ,26185 .Tel) ملاقات کے لئے آئے۔ انھوں نے ہند و ظلم و تعصب کی شکایت کی۔ میں نے کہا کہ میں مانتا ہوں کہ تعصب اور زیادتی ہے مگر پاکستانی مسلمانوں کو بھی آپس میں ایک دوسرے سے اسی قسم کے تعصب اور زیادتی کی شکایت ہے۔ پھر آپ لوگ اس کو ہند و کے ساتھ کیوں جوڑتے ہیں۔ اس کو انسانی تعصب اور انسانی زیادتی کہئے۔ پھر میں نے کہا کہ یہ دراصل چیلنج ہے اور یہ چیلنج ہمیشہ باقی رہے گا۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا کا نظام اس طرح بنایا ہے کہ یہاں ایک دوسرے کے لئے چیلنج بنے۔ چیلنج خود نظام فطرت کا حصہ ہے پھر آپ اس کو کس طرح ختم کریں گے۔ سمندر کے کنارے رہتے ہیں وہاں بار بار سائیکلون آتے ہیں۔ اس سے کئی نقصانات ہوتے ہیں۔ پھر کیا آپ سائیکلون کے خلاف پروٹسٹ کرتے ہیں۔ سائیکلون کو ختم کرنے کے لئے آپ کو نیا سمندر بنانا پڑے گا۔ نیا سورج اور نئی فضا بنانی پڑے گی۔ زمین کے پورے نظام کو بدلنا ہوگا۔ کیا آپ ایسا کر سکتے ہیں۔ اسی طرح انسانی زندگی میں بھی چیلنج کے سائیکلون آئیں گے۔ ان کے خلاف احتجاج نہیں کرنا ہے۔ بلکہ ان کے خلاف تدبیر کرنا ہے۔ پھر میں نے کہا کہ جب بھی کوئی ناموافق صورتحال سامنے آئے تو اس کے مقابلے میں آپ کے رہانس کی دو صورتیں ہیں۔ ایک جذباتی جواب (emotional response) اور دوسرا سوچا سمجھا جواب (considered response) پہلا جواب قرآن کے الفاظ میں عاجلانہ جواب ہے اور دوسرا صابرانہ جواب۔ آپ کے مستقبل کا انحصار اسی جواب پر ہے۔ اگر آپ نے عاجلانہ جواب دیا تو آپ کے لئے تباہی ہے، اور اگر آپ نے صابرانہ جواب دیا تو آپ کے لئے کامیابی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader