آغازِ کلام
Urdu book, p. 149
By Maulana Wahiduddin Khan
ہندوستان ٹائمز (۱۳ اکتوبر ۱۹۹۳) میں مسٹر بی آر نندا کا ایک مضمون مہاتما گاندھی کے بارے میں چھپا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ گاندھی جی کا خیال تھا کہ انڈیا میں اختلافات کے لئے انگریز کو ذمہ دار ٹھہرانا احمقانہ اور بے فائدہ ہے: It was foolish and futile to blame the British for tormenting مہاتما گاندھی نے لکھا تھا کہ انگریزوں نے انڈیا پر قبضہ نہیں کیا، ہم نے انڈیا کو انہیں دیدیا: The English have not taken India, we have given it to them. یہ نظریہ قرآن کے مطابق ہے۔ قرآن میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ کسی شخص یا قوم پر جو کچھ بیتتا ہے وہ اس کے اپنے کئے کا نتیجہ ہوتا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ ۱۸۵۷ء سے لے کر ۱۹۴۷ء تک کا کوئی بھی قابل ذکر مسلمان میرے علم میں نہیں جس نے اس بات کو اتنے واضح انداز میں بیان کیا ہو۔ ۱۹۴۷ء کے بعد ہندوستانی مسلمانوں پر جو کچھ بیت رہا ہے، اس کو دوبارہ ہمارے علماء اور دانشور ہندوؤں کی سازش اور زیادتی کے خانہ میں ڈال رہے ہیں۔ مسلم علماء اور دانشور ۱۹۴۷ء سے پہلے کے دور میں بھی قرآن کے مطابق نہ سوچ سکے۔ اور، ۱۹۴۷ء کے بعد کے دور میں بھی وہ قرآنی طرز فکر سے محروم ہیں۔ ۱۵ اکتوبر ۱۹۹۳ ایک ندوی عالم نے ایک بار مولانا ابو الحسن علی ندوی سے میرے ایک مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے لکھا ہے کہ طارق نے اسپین میں کشتیاں نہیں جلائیں، کشتی جلانے کی بات محض افسانہ ہے نہ کہ کوئی تاریخی واقعہ۔ مذکورہ ندوی عالم کے بیان کے مطابق، مولانا ابو الحسن علی ندوی نے فرمایا: لا یعتبر بہ (وہ قابل لحاظ نہیں) میں نے کہا کہ میں نے یہ بات الرسالہ مارچ ۱۹۷۷ء میں لکھی تھی۔ اس کے دس سال بعد، ۱۹۸۷ء میں قاہرہ سے ایک عربی کتاب چھپی ہے۔ اس کے مصنف ڈاکٹر عبد الحلیم عویس ہیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader