آغازِ کلام
Urdu book, p. 150
By Maulana Wahiduddin Khan
اور مولانا ابو الحسن علی ندوی سے ان کے بہت اچھے تعلقات ہیں۔ اس کتاب کا نام ہے: قضية احراق طارق بن زياد للسفن ، بين الاسطورة و التاريخ ڈاکٹر عبد الحلیم عویس ریاض کی جامعۃ الامام میں تاریخ کے پروفیسر ہیں۔ میں نے ندوی عالم سے کہا کہ اب آپ کی ملاقات جب مولانا ابو الحسن علی ندوی سے ہو تو آپ میرا نام نہ لیں۔ صرف مذکورہ عرب پروفیسر کی کتاب کا ذکر کرتے ہوئے پوچھیں کہ اس بارے میں مولانا کی رائے کیا ہے۔ ندوی عالم مسکرا کر رہ گئے۔ وہ اس کے لئے تیار نہ ہوئے کہ دوبارہ مولانا ابو الحسن علی ندوی سے اس قسم کا سوال کریں۔ ۱۴ اکتوبر ۱۹۹۳ء آج رات کو ساڑھے گیارہ بجے قبل از وقت نیند کھل گئی۔ دانت میں شدید درد تھا، اس قسم کا درد مجھے پہلی مرتبہ ہوا۔ سمجھ میں نہیں آتا تھا کیا کروں۔ دوسرے کمرہ میں گیا تو میری بیوی اور میری لڑکی بھی سورہی تھیں۔ ان کو جگانا مجھے مناسب معلوم نہیں ہوا۔ ثانی اثنین سے کہنا بھی بے فائدہ تھا کیوں کہ آدھی رات کو کسی ڈاکٹر سے بھی مشورہ نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس بے بسی کے عالم میں صرف ایک ہی چیز میرے پاس تھی اور وہ دعا تھی۔ میں نے مسلسل دعا کرنا شروع کیا۔ خاص طور پر یہ آیت بار بار پڑھنے لگا: امن يجيب المضطر اذا دعاء ويكشف السوء۔ کچھ دیر کے بعد محسوس ہوا کہ درد کم ہورہا ہے۔ یہاں تک کہ دھیرے دھیرے درد ختم ہو گیا۔ میں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور بستر پر سو گیا ۔ اس کے بعد نیند آگئی یہاں تک کہ صبح کو فجر کے وقت نیند کھلی۔ ۱۷ اکتوبر ۱۹۹۳ء دوار کا پیٹھ کے شنکر اچاریہ آجکل دہلی میں ہیں۔ پروفیسر ودیندر ملک (2469 3394 Tel) آج مجھ کو ان سے ملاقات کے لئے لے گئے۔ دہلی کے ایک دولت مند ہندو کے گھر پر وہ ٹھہرے ہوئے ہیں۔ بہت بڑا گھر تھا پورا گھر سنگ مرمر کا بنا ہوا تھا۔ بے شمار لوگ آتے جاتے نظر آئے، بڑا پرشکوہ حال الگ تمھ جو ماتھا ٹیکنے کے لئے آئے تھے۔ دور تک دور تک کاروں کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader