آغازِ کلام
Urdu book, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
William James held that the basic element in religion is the cry "Help! Help!" (8/685) یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کی فطرت میں سب سے زیادہ بڑا جذبہ بھرا ہوا ہے وہ عجز کا جذبہ ہے۔ انسان کو اس کی عاجزانہ فطرت پر رکھا جائے تو وہ کبھی دوسرے کے لئے مضر نہیں بن سکتا۔ ۲۲ جنوری ۱۹۹۳ ایک صاحب سے ہندوستان کی مسلم قیادت کے بارے میں گفت گو ہوئی۔ میں نے کہا کہ مسلم قائدین کے درمیان مخلص اور غیر مخلص کا فرق تو ہو سکتا ہے مگر قائدانہ نااہلی کے اعتبار سے ان کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے مسائل کی اصل ذمہ داری خود ان کے قائدین پر آتی ہے۔ مثلاً ہندوستان کے مسلمان سب سے زیادہ جلوس کے جھگڑوں کی وجہ سے مہلک فسادات کا شکار ہوتے رہے ہیں۔ ان فسادات سے بچنے کا آسان حل ان سے اعتراض کرنا تھا مگر مسلم قائدین مسلمانوں کو یہ سبق نہ دے سکے۔ مسلمان پچھلے پچاس سال سے اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ ان کے لئے جو جلوس ہے وہ جلوس اور بے جلوس میں نہیں ہے بلکہ جلوس اور فساد میں ہے۔ اگر مسلمانوں کو اس بارے میں باشعور بنا دیا گیا ہوتا تو یقیناً طور پر مسلمان ہزاروں تباہ کن فساد سے بچ جاتے۔ ۲۵ جنوری ۱۹۹۳ میں پچھلے تقریباً ۲۵ سال سے مسلمانوں کو صبر و اعراض کی تلقین کرتا رہا ہوں۔ مگر مسلمانوں کی اکثریت اس کو بزدلی کہہ کر نظر انداز کرتی رہی۔ اب فسادات کی کثرت، خاص طور پر دسمبر ۱۹۹۲ میں بمبئی کے فساد نے ان کو ہلا دیا۔ اب ہر طرف صبر و تحمل کی باتیں کی جارہی ہیں۔ ٹائم میگزین (۲۵ جنوری) میں انٹرویو دیتے ہوئے شیوسینا کے لیڈر بال ٹھاکرے نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ مسلمانوں نے اب سبق سیکھ لیا ہے: I hope the Muslims have understood the lesson well. (p. 31)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader