آغازِ کلام
Urdu book, p. 151
By Maulana Wahiduddin Khan
اندر داخل ہوئے تو شکر اچاریہ ایک اونچے تخت پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اپنا ایک پاؤں وہ باہر نکالے ہوئے تھے جس کے آگے جھک کر لوگ عقیدت کا اظہار کر رہے تھے۔ پر و فیسر عنوان عشق کا تبصرہ مجھے یاد آگیا۔ انھوں نے چند روز پہلے کہا تھا کہ انڈیا میں آج کل تین کن گڈم متو ازی طور پر قائم ہیں۔ پولیٹیکل کن گڈم، مارفیا کن گڈم اور اسپرچول کن گڈم۔ ان میں بھی سب سے زیادہ بڑی اسپرچول کن گڈم ہے۔ یہ کن گڈم جس طرح ہندوؤں میں رائج ہے ٹھیک اسی طرح وہ مسلمانوں میں بھی بڑے پیمانے پر رائج ہے۔ ۱۸ اکتوبر ۱۹۹۳ گڑ گاؤں میں ایک ماڈرن مسلم فیملی رہتی ہے۔ یہ لوگ انگریزی تعلیم یافتہ ہیں اور انگریزی زبان میں لکھتے اور بولتے ہیں۔ ان کے لڑکے کی شادی ایک سابق گورنر کی لڑکی سے ہوئی ۔ یہ لڑکی اگر چہ تعلیم یافتہ ہے مگر اس کی تعلیم زیادہ تر اردو میں ہوئی۔ چنانچہ وہ اردو زبان بولتی ہے۔ لڑکے کی ماں کو یہ بات سخت نا پسند ہے۔ وہ اکثر کہتی رہتی ہے کہ بہو کو انگلش بولنا چاہئیے۔ ایک روز غصہ ہو کر انھوں نے اپنی بہو کے بارہ میں کہا کہ آخر کب وہ انگریزی طریقہ اختیار کرے گی: When she will become anglicised? یہ قصہ مجھے معلوم ہوا تو میں نے سوچا کہ اس کے برعکس اگر ایسا ہو تو ایک مسلم خاندان میں ایک لڑکی بہو بن کر آئے جو انگلش اسکول کی تعلیم یافتہ ہو اور انگریزی زبان بولتی ہو۔ اب ایسا نہیں ہوگا کہ اس کی ساس اس کو ہندی بولنے کے لئے کہے اور جب اس کو ہندی بولنا نہ آئے تو وہ غصہ ہو کر اپنی بہو کے بارہ میں یہ ریمارک دے کہ کب وہ ہندی طریقے اختیار کرے گی: When she will become Hinduised? خالص شرعی اعتبار سے انگریزی اور ہندی میں کوئی فرق نہیں۔ اس کے باوجود کیوں ایسا ہے کہ مسلمان انگریزی بولنے کو فخر سمجھتے ہیں اور ہندی بولنے کو اپنے لئے کم تر خیال کرتے ہیں۔ غور کرتے ہوئے سمجھ میں آیا کہ اس فرق کی وجہ تاریخی ہے نہ کہ شرعی۔ انگریزیہ انڈیا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader