آغازِ کلام
Urdu book, p. 152
By Maulana Wahiduddin Khan
میں ترقی یافتہ تمدن لے کر آئے۔ اس لئے مسلمانوں نے ان کو اپنے سے اونچا سمجھا اور مسلمان جب اس سے پہلے انڈیا میں آئے تو ہندو تہذیب بظاہر انہیں اپنے سے کم نظر آئی اس لئے انہوں نے ہندوؤں کو نیچا سمجھ لیا۔ یہ فرق میرے نزدیک سراسر غیر اسلامی نفسیات کا نتیجہ ہے، اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ ۱۹ اکتوبر ۱۹۹۳ چارلس سوئیڈل (Charlese Swindol) نے کہا ہے کہ زندگی ۱۰ فیصد وہ ہے جو مجھ پر گزرتی ہے اور ۹۰ فیصد یہ ہے کہ میرا رد عمل اس کے بارے میں کیا ہوتا ہے: Life is 10 percent what happens to me and 90 percent how I react to it. اس قول کا مطلب یہ ہے کہ آدمی جب یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ مشکل حالات میں گھر گیا ہے تو اس میں خارجی حالات کا حصہ صرف دس فیصد ہوتا ہے۔ بقیہ ۹۰ فیصد حصہ وہ ہے جو آدمی اپنے جوابی احساس سے اس میں اضافہ کرتا ہے۔ حالات کے واقع ہونے پر آدمی اگر نارمل رہے تو حالات کا اثر صرف دس فیصد کی حد میں رہے گا اور اس سے آگے بڑھنے نہیں پائے گا۔ اس دنیا میں ناموافق حالات ہمیشہ پیش آتے ہیں۔ آدمی کا منفی ردعمل اس کو بڑھاتا ہے اور مثبت ردعمل اس کو اس کے فطری حد میں رکھ کر اس کو غیر مؤثر بنا دیتا ہے۔ ۲۰ اکتوبر ۱۹۹۳ علی نور الدین السمہودی (وفات ۹۱۱ هـ ، ۱۵۰۶ ء) ایک شافعی عالم ہیں۔ وہ یہود (مصر) میں پیدا ہوئے۔ سفر کر کے وہ مدینہ پہنچے اور وہیں مقیم ہو گئے۔ مدینہ میں ہی ان کی وفات ہوئی۔ انہوں نے مدینہ کی تاریخ پر ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے: وفاء الوفا باخبار دار المصطفیٰ۔ ایک ہندوستانی عالم جن کی عمر اب ۶۸ سال ہو چکی ہے۔ پہلے ۳۰ سال سے وہ سعودی عرب میں رہتے ہیں۔ اب وہ وہاں کے شہری بن چکے ہیں۔ ان سے ۱۸ اکتوبر کو دہلی میں میرے دفتر میں ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ وہ مدینہ کی تاریخ پر ایک تحقیقی کتاب لکھ رہے ہیں۔ اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader