آغازِ کلام
Urdu book, p. 153
By Maulana Wahiduddin Khan
سلسلہ میں انھوں نے موضوع سے متعلق کافی کتابیں پڑھی ہیں۔ وہ کم از کم سو بار مدینہ جا چکے ہیں۔ مدینہ میں ان کا ایک اپنا مکان بھی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ علامہ سمہودی کی مذکورہ کتاب کو انھوں نے بالاستیعاب پڑھا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کتاب میں رسول اور اصحاب رسول کے زمانہ کی مسجدوں کا ذکر ہے میں نے اپنے موضوع کی بنا پر مدینہ کی ان مسجدوں کی تحقیق کرنا چاہا۔ مگر جب میں نے مدینہ میں گھوم کر دیکھا تو میں نے پایا کہ السمہودی کی کتاب میں جن مقامات کے بارہ میں بتایا گیا ہے کہ یہاں فلاں نام کی مسجد تھی، ان مقامات و اماکن پر آج سرے سے کوئی مسجد موجود ہی نہیں۔ حتیٰ کہ کتنی مسجدیں جن کے بارہ میں لکھا ہے کہ یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی وہاں بھی بھی آج مسجدوں کا وجود نہیں۔ مذکورہ سعودی عالم نے فرمایا "جن مساجد کا اس کتاب میں ذکر ہے، میں نے اندازہ کیا کہ ان میں سے پچاس فیصد مساجد اب موجود نہیں ہیں؟ مذکورہ عالم نے یہ بات ۱۸ اکتوبر ۱۹۹۳ کی دوپہر کو میرے دہلی کے دفتر میں بیٹھ کر کہی۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ کے نام کے ساتھ میں اس بات کا ذکر کر سکتا ہوں۔ انھوں نے جواب دیا کہ نہیں۔ ۲۱ اکتوبر ۱۹۹۳ پرانا مقولہ ہے کہ علم طاقت ہے۔ اس کو انگریزی زبان میں اس طرح کہا گیا ہے : Knowledge is power. ایک شخص جس کے پاس معروف قسم کا علم نہ ہو، وہ سوچ سکتا ہے کہ میرے پاس علم نہیں اس لئے میرے پاس طاقت بھی نہیں۔ مگر یہ سوچ درست نہیں۔ یہ صحیح ہے کہ علم طاقت ہے۔ مگر یہاں اس سے بھی بڑی ایک طاقت ہے۔ اور وہ طاقت کیریکٹر ہے۔ اس لئے دوسرا مقولہ یہ ہونا چاہئے کہ کردار طاقت ہے : Character is power. کیریکٹر وہ چیز ہے جس کے لئے رسمی علم ضروری نہیں۔ ہر آدمی اپنے اندر رکھ دار کی صفت پیدا کر سکتا ہے۔ ہر آدمی اس سپر پا ور کا مالک بن سکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader