آغازِ کلام
Urdu book, p. 154
By Maulana Wahiduddin Khan
جنگ بلقان (۱۳- ۱۹۱۲ء) میں ترکوں کی عثمانی سلطنت یورپ سے تقریباً ختم ہو گئی (13/789) اسی زمانہ میں شبلی نعمانی نے کہا تھا: یہ سیلاب بلا بلقان سے جو بڑھتا آتا ہے اسے روکے گا مظلوموں کی آہوں کا دھواں کب تک مولانا محمد علی پر اس حادثہ کا اتنا زیادہ اثر ہوا کہ انھوں نے لکھا ہے کہ بلقان کی تباہ کن جنگ کے دوران ایک بار میرے احساسات اتنے شدید ہو گئے کہ میں نے سوچا کہ میں خود کشی کر لوں: My feelings during the disastrous war in the Balkans were at one time so overpowering that I must confess that I even contemplated suicide. ذاتی طور پر میں مولانا محمد علی کی مسلم سیاست کو اتنا ہی بے معنی سمجھتا ہوں جتنا موجودہ زمانہ کے نام نہاد مسلم لیڈروں کی سیاست کو۔ تا ہم دونوں میں ایک فرق ہے۔ مولانا محمد علی اپنی ساری نادانی کے باوجود اپنی جگہ پر مخلص اور دیانت دار تھے۔ جبکہ موجودہ زمانہ کے لیڈر بظاہر بالکل استقلالی نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں دوبارہ بلتان کی شکست جیسے واقعات ہو رہے ہیں مگر آج کے کسی مسلم لیڈر کے بارہ میں نہیں سنا گیا کہ وہ یہ سوچے کہ اسے خود کشی کر لینا چاہئے۔ آج کے مسلم لیڈر ہر قسم کے ملی حادثات کے باوجود رنج لیڈر کو بہت ہے مگر آرام کے ساتھ‘ کا مصداق بنے ہوئے ہیں۔ ۲۳ اکتوبر ۱۹۹۳ ۱۹۴۰ میں انڈیا میں ثالشی کا قانون پاس ہوا تھا جو ابھی تک قائم ہے۔ اسی قانون کے تحت ملکی عدالتوں سے باہر کئے جانے والے فیصلے قانون کے عین مطابق ہیں۔ لوک عدالت کا نظام جو خود گورنمنٹ کی سرپرستی میں چل رہا ہے، وہ گویا گورنمنٹ کی طرف سے اس قانون کی حوصلہ افزائی کے ہم معنی ہے: Extra-judicial settlement of disputes is recognised as valid and legal under the Indian Arbitration Act, 1940, and the Government has been encouraging it through Lok Adalats.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader