Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 155

By Maulana Wahiduddin Khan

فوجداری معاملاتے روئے قانون قابل دست اندازی پولیس ہوتے ہیں۔ اس لئے فوجداری امور میں نالشیکا ایکٹ قابل انطباق نہیں ہے۔ بقیہ تمام معاملات میں وہ متابل انطباق ہے اور مسلمان اس سے بہت فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔ ۲۴ اکتوبر ۱۹۹۳ رسول اور اصحاب رسول جب عمرہ کے ارادہ سے مدینہ سے چل کر مکہ کے قریب پہنچے تو قریش نے ان کو وقار کا مسئلہ بنا لیا۔ انھوں نے کہا کہ جس نے ہمارے آبا ہو کو بدر کے دن قتل کیا وہ ہمارے شہر میں داخل نہیں ہو سکتا (لا يدخل علينا من قتل آباءنا يوم بدر) تفسیر طبری ۱/ ۴۹۹ اسی کا نام حمیت جاہلیہ ہے۔ حمیت جاہلیہ ایک گناہ ہے اور اس کو قرآن میں اہلِ باطل کا طریقہ بتایا گیا ہے (الفتح) ۲۵ اکتوبر ۱۹۹۳ ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ وہ کشمیر کی موجودہ تحریک کے حامی تھے اور اس کو اسلامی جہاد بتاتے تھے۔ میں نے کہا کہ ۱۹۸۹ سے پہلے میں بار بار کشمیر گیا ہوں۔ وہاں کے مسلمانوں کو ہر طرح کی آزادی حاصل تھی دینی ، تہذیبی، تعلیمی، اقتصادی، تبلیغی وغیرہ۔ ان کا صرف ایک مسئلہ تھا اور وہ تھا کشمیر میں انڈیا کا political presence اس بنا پر انھوں نے ۱۹۸۹ میں سرینگر میں بم مار کر اپنی مسلح تحریک شروع کر دی۔ میں نے کہا کہ political presence کو اشو بنانا خود ایک غیر اسلامی فعل ہے کیونکہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی اس وقت عرب میں ایرانیوں اور رومیوں کا political presence موجود تھا مگر آپ نے اس کو اشو نہیں بنایا بلکہ شرک اور توحید کو اشو بنایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق پولیٹیکل پرینس کو اشو بنانا ایک سیاسی بدعت ہے۔ اور حدیث کے مطابق بدعت کا نتیجہ تباہی کے سوا اور کچھ نہیں۔ دسمبر ۱۹۹۱ میں ایس آئی ایم والوں نے بمبئی میں اقدام امت کا نفرنس کی۔ اس کا ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page